انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اس سر زمین میں تم دونوں ہی کو بڑائی مل جائے؟ اور ہم تم دونوں کو ہرگز ماننے والے نہیں۔
En
وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
وه لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹادو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے
En
(آیت 78) {قَالُوْۤااَجِئْتَنَا …: } فرعون اور اس کے ساتھی اپنے شرکیہ عقائد کی وجہ سے مذہبی برتری بھی جتاتے رہتے تھے اور سرزمین مصر کی حکومت پر قبضے کی وجہ سے تمام وسائل کے مالک بن کر سیاسی طور پر بھی سب سے بڑے بنے ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے یہ دو الزام دھر دیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح کی ہر تحریک، پرانی ہو یا نئی، وقت کے تمام فرعون اس پر یہی الزام رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کا مقصد اصلاح نہیں، بلکہ ہماری مذہبی سیادت اور سیاسی برتری کو ختم کرنا اور اپنی حکومت قائم کرنا ہے، جیسا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے بھی کہا تھا کہ یہ شخص محض تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے، فرمایا: «{يُرِيْدُاَنْيَّتَفَضَّلَعَلَيْكُمْ }»[المؤمنون: ۲۴]”یہ چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرلے۔“ حالانکہ انبیاء اور مصلحین محض اصلاح کے لیے آتے ہیں، اگر حکمران اسلام قبول کر لیں اور خود ہی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیں تو ان کی حکومت سے تعرض نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اس دور میں محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے ابن سعود کے ذریعے سے توحید و سنت کی دعوت کو پھیلایا، خود حکومت طلب نہیں کی، نہ ان کی اولاد میں سے کسی نے یہ خواہش یا کوشش کی۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے وقت کے حاکموں کو جہاد پر ابھار کر اور ان کا ساتھ دے کر تاتاریوں کو مار بھگایا، خود کوئی عہدہ نہ طلب کیا نہ قبول کیا۔ اس لیے ہرقل نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اگر چاہتے ہو کہ تمھاری حکومت قائم رہے تو اسلام قبول کر لو، مگر وہ بدنصیب نکلے اور ہرقل بھی ان کی بادشاہت کے طمع میں ایمان سے محروم رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان ہونے والے قبائل کے سرداروں کو اور مختلف علاقوں کے مسلمان ہونے والے بادشاہوں، مثلاً ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ وغیرہ کو ان کے عہدوں پر قائم رکھا۔ آخر میں فرعون کے ساتھیوں نے نہایت ڈھٹائی سے کہا کہ ہم تم دونوں کو ہر گز ماننے والے نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
78۔ 1 یہ منکرین کی دیگر حجتیں ہیں جو دلائل سے عاجز آکر، پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم ہمارے آباء و اجداد کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہو، دوسرے یہ کہ ہمیں جاہ و ریاست حاصل ہے، اسے ہم سے چھین کر خود اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہو اسلیے ہم تو کبھی بھی تم پر ایمان نہ لائیں گے۔ یعنی تنقید آباء پر اصرار اور دنیاوی وجہ کی خواہش نے انھیں ایمان لانے سے روکے رکھا۔ اس کے بعد آگے وہی قصہ ہے کہ فرعون نے ماہر جادوگروں کو بلایا اور حضرت موسیٰ ؑ اور جادوں گروں کا مقابلہ ہوا، جیسا کہ سورت اعراف میں گزرا اور سورت طہ میں بھی اس کی کچھ تفصیل آئے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
78۔ وہ کہنے لگے: کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس طریقہ سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے اور ملک میں تم دونوں کی بڑائی قائم ہو جائے؟ ہم تو تمہاری بات [91] ماننے والے نہیں
[91] فرعون اور درباریوں کے اس جواب سے بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ خوب جانتے تھے کہ سیدنا موسیٰ اور ہارون علیہما السلام جادوگر نہیں ہیں۔ جادوگر کو تو معاشرہ کی ایک حقیر سی مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بھلا بڑائی قائم ہو سکتی ہے؟ اور اگر وہ حقیقت کا اعتراف کر لیتے تو اپنے تمام مناصب سے دستبردار ہونا پڑتا تھا۔ لہٰذا انہوں نے وہی جواب دیا جو دلیل سے عاجز اور ضدی لوگ دیا کرتے ہیں کہ تم تو ہمیں اپنے آباء و اجداد کے دین سے برگشتہ کرنے آئے ہو مگر ہم تمہارے جھانسے میں کبھی نہیں آئیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْۤا﴾ انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئْتَنَالِتَلْفِتَنَاعَمَّؔاوَجَدْنَاعَلَیْهِاٰبَآءَنَا﴾”کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔“مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوْنَلَكُمَاالْكِبْرِیَآءُفِیالْاَرْضِ﴾”اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔“ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰ علیہ السلام کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔
جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ”تیرا مقصد یہ ہے“ اور ”تیری مراد وہ ہے“ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَانَحْنُلَكُمَابِمُؤْمِنِیْنَ﴾”ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے“ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ”ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔“ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارون علیہ السلام نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰ علیہ السلام پر لگا رہے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا} لموسى رادِّين لقوله بما لا يرد به: {أجئتنا لِتَلْفِتَنا عمَّا وَجَدْنا عليه آباءنا}؛ أي: أجئتنا لتصدَّنا عما وَجَدْنا عليه آباءنا من الشرك وعبادة غير الله وتأمرنا بأن نعبد الله وحده لا شريك له؛ فجعلوا قول آبائهم الضالين حجَّة يردُّون بها الحقَّ الذي جاءهم به موسى عليه السلام. وقوله: {وتكون لكما الكبرياءُ في الأرض}؛ أي: وجئتمونا لتكونوا أنتم الرؤساء ولتخرِجونا من أراضينا؟ وهذا تمويهٌ منهم وترويجٌ على جهالهم وتهييجٌ لعوامِّهم على معاداة موسى وعدم الإيمان به، وهذا لا يحتجُّ به من عرف الحقائق وميَّز بين الأمور؛ فإنَّ الحجج لا تُدفَعُ إلا بالحجج والبراهين، وأما من جاء بالحقِّ؛ فَرُدَّ قوله بأمثال هذه الأمور؛ فإنها تدلُّ على عجز موردها عن الإتيان بما يردُّ القول الذي جاء به خصمه؛ لأنه لو كان له حجَّة؛ لأوردها، ولم يلجأ إلى قوله: قصدك كذا أو مرادك كذا، سواء كان صادقاً في قوله وإخباره عن قصد خصمه أم كاذباً، مع أنَّ موسى عليه الصلاة والسلام كلُّ من عرف حاله وما يدعو إليه؛ عرف أنه ليس له قصدٌ في العلو في الأرض، وإنما قصده كقصد إخوانه المرسلين، هداية الخلق وإرشادهم لما فيه نفعهم. ولكن حقيقة الأمر كما نطقوا به بقولهم: {وما نحن لكما بمؤمنين}؛ أي: تكبُّراً وعناداً، لا لبطلان ما جاء به موسى وهارون، ولا لاشتباهٍ فيه، ولا لغير ذلك من المعاني سوى الظلم والعدوان وإرادة العلوِّ الذي رموا به موسى وهارون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔