تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓىِٕفَ:} یعنی ان کے بعد دنیا میں وہی بسنے والے رہ گئے۔ دیکھیے سورۂ صافات (۷۷) اس لیے نوح علیہ السلام کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔
➌ {فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ:} یہاں {” فَانْظُرْ “} کا معنی ہے غوروفکر کر اور عبرت حاصل کر کہ وہ کیسے تباہ و برباد کر دیے گئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اہل ایمان کو تسلی ہے اور ان لوگوں کے لیے مقام عبرت ہے جو آج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کر رہے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فكذَّبوه}: بعدما دعاهم ليلاً ونهاراً وسرًّا وجهاراً فلم يزِدْهم دعاؤه إلا فراراً. {فنجَّيْناه ومن معه في الفلك}: الذي أمرناه أن يصنعه بأعيننا، وقلنا له: إذا فار التنُّور؛ فاحمل فيها من كلٍّ زوجين اثنين، وأهلَك؛ إلاَّ مَن سَبَقَ عليه القول، ومَنْ آمن، ففعل ذلك، فأمر الله السماء بماءٍ منهمرٍ، وفجَّر الأرض عيوناً فالتقى الماء على أمرٍ قد قُدِرَ، وحملناهُ على ذاتِ ألواح ودُسُر، تجري بأعيننا. {وجعلناهم خلائف}: في الأرض بعد إهلاك المكذِّبين، ثم بارك الله في ذرِّيَّته وجعل ذريته هم الباقين، ونشرهم في أقطار الأرض، {وأغرقنا الذين كذبوا بآياتنا}: بعد ذلك البيان وإقامة البرهان. {فانظرْ كيف كان عاقبةُ المنذَرين}: وهو الهلاك المخزي واللعنة المتتابعة عليهم في كلِّ قرنٍ يأتي بعدهم، لا تسمع فيهم إلا لوماً، ولا ترى إلا قدحاً وذمًّا؛ فليحذر هؤلاء المكذِّبون أن يحلَّ بهم ما حلَّ بأولئك الأقوام المكذِّبين من الهلاك والخزي والنَّكال.