(آیت 69){ قُلْاِنَّالَّذِيْنَيَفْتَرُوْنَ …:} افترا کا معنی ہی جھوٹ گھڑنا ہے۔ {”الْكَذِبَ“} کا لفظ تاکید کے لیے ہے، یعنی جو لوگ جھوٹ بکتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہیں وہ تو کسی طور بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ (شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
69۔ 1 افترا کے معنی جھوٹی بات کہنے کے ہیں۔ اس کے بعد مذید ' جھوٹ ' کا اضافہ تاکید کے لئے۔ 69۔ 2 اس سے واضح ہے کہ کامیابی سے مراد آخرت کی کامیابی یعنی اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچ جانا محض دنیا کی عارضی خوش حالی، کامیابی نہیں۔ جیسا کہ بہت سے لوگ کافروں کی عارضی خوشحالی سے مغالطے کا اور شکوک و شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے اگلی آیت میں فرمایا: " یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش کرلیں پھر ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہے " یعنی یہ دنیا کا عیش، آخرت کے مقابلے میں نہایت قلیل اور تھوڑا سا ہے جو شمار میں نہیں۔ اس کے بعد انھیں عذاب شدید سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس لیے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کافروں، مشرکوں اور اللہ کے نافرمانوں کی دنیاوی خوشحالی اور مادی ترقیاں، یہ اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ یہ قومیں کامیاب ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہے۔ یہ مادی کامیابیاں ان کی جہد مسلسل کا ثمرہ ہیں جو اسباب ظاہر کے مطابق ہر اس قوم کو حاصل ہوسکتی ہیں۔ جو اسباب کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کی طرح محنت کرے گی، چاہے وہ مومن ہو یا کافر۔ علاوہ ازیں یہ عارضی کامیابیاں اللہ کے قانون مہلت کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں۔ جس کی وضاحت اس سے قبل بعض جگہ ہم پہلے بھی کرچکے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
69۔ آپ ان سے کہئے کہ: جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پا سکتے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ساری مخلوق صرف اس کی ملکیت ہے ٭٭
جو لوگ اللہ کی اولاد مانتے تھے، ان کے عقیدے کا بطلان بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ اس سے پاک ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی ملکیت ہے، اس کی غلام ہے، پھر ان میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو جائے تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی خود تمہارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں۔ تم تو اللہ پر بھی اپنی جہالت سے باتیں بنانے لگے۔ تمہارے اس کلمے سے تو ممکن ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں کہ «وَقَالُوااتَّخَذَالرَّحْمَـٰنُوَلَدًالَّقَدْجِئْتُمْشَيْئًاإِدًّاتَكَادُالسَّمَاوَاتُيَتَفَطَّرْنَمِنْهُوَتَنشَقُّالْأَرْضُوَتَخِرُّالْجِبَالُهَدًّاأَندَعَوْالِلرَّحْمَـٰنِوَلَدًاوَمَايَنبَغِيلِلرَّحْمَـٰنِأَنيَتَّخِذَوَلَدًاإِنكُلُّمَنفِيالسَّمَاوَاتِوَالْأَرْضِإِلَّاآتِيالرَّحْمَـٰنِعَبْدًالَّقَدْأَحْصَاهُمْوَعَدَّهُمْعَدًّاوَكُلُّهُمْآتِيهِيَوْمَالْقِيَامَةِفَرْدًا»۱؎[19-مريم:88-95] تم اللہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو؟ بھلا اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اسے تو یہ لائق نہیں زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی غلامی میں حاضر ہونے والی ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے۔ ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ افترا پرداز گروہ ہر کامیابی سے محروم ہے۔ دنیا میں انہیں کچھ مل جائے تو وہ عذاب کا پیش خیمہ اور سزاؤں کی زیادت کا باعث ہے۔ آخر ایک وقت آئے گا جب عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔ سب کا لوٹنا اور سب کا اصلی ٹھکانا تو ہمارے ہاں ہے۔ یہ کہتے تھے اللہ کا بیٹا ہے ان کے اس کفر کا ہم اس وقت ان کو بدلہ چکھائیں گے جو نہایت سخت اور بہت بدترین ہوگا ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔