ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ اِنۡ یَّـتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۶۶﴾
سن لو! بے شک اللہ ہی کے لیے ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور جو لوگ اللہ کے غیر کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی قسم کے شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے۔ وہ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ En
سن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب خدا کے (بندے اور اس کے مملوک) ہیں۔ اور یہ جو خدا کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو پکارتے ہیں۔ وہ (کسی اور چیز کے) پیچھے نہیں چلتے۔ صرف ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں
En
یاد رکھو کہ جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں یہ سب اللہ ہی کے ہیں اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکا کی عبادت کررہے ہیں کس چیز کی اتباع کر رہے ہیں۔ محض بے سند خیال کی اتباع کر رہے ہیں اور محض اٹکلیں لگا رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 66) ➊ {اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ: اَلَاۤ } سے خبردار کیا کہ بات پر غور کرو۔ { مَنْ } کا لفظ عام طور پر ذوی العقول یعنی انسان، جن اور فرشتوں پر بولا جاتا ہے۔ اس جملے سے دو باتیں نہایت واضح ہیں، ایک تو یہ کہ جب آسمان و زمین کا ہر شخص انسان ہو یا جن یا فرشتہ، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تو یہ کفار و مشرکین بھی، جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں، اسی کی ملکیت ہوئے، وہی ان کے معاملات جس طرح چاہتا ہے چلاتا ہے، لہٰذا آپ کو ان کی ایذا رسانی اور طعن و تشنیع سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ آپ کو کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچا سکتے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت نہ ہو۔ دوسری یہ کہ جب یہ تینوں افضل مخلوقات اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں تو باقی چیزیں، پتھر، بت، دریا، درخت، جانور اور قبریں تو بدرجۂ اولیٰ اس کی ملکیت ہیں۔ تو کتنی بے عقلی کی بات ہے کہ مالک کو چھوڑ کر مملوک کی پرستش کی جائے، اس لیے اس کے ساتھ ہی شرک کی تردید فرمائی۔ (شوکانی، ابن کثیر)
➋ { وَ مَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ:} یعنی حقیقت میں تو کوئی بھی اللہ کا شریک نہیں کہ یہ کہا جائے کہ فلاں اللہ کا شریک ہے۔ مملوک مالک کا شریک کیسے ہو سکتا ہے؟ رہا یہ سوال کہ پھر اتنے بے شمار لوگوں نے جو شریک بنا رکھے ہیں یہ کیسے بن گئے؟ فرمایا، اللہ کے سوا جس کسی کی بھی کوئی پوجا کرتا ہے، اسے مشکل کشا یا حاجت روا سمجھتا یا اسے پکارتا ہے، ان میں سے کسی شریک کا بھی حقیقت میں کوئی وجود نہیں، وہ محض ان مشرکوں کے وہم اور خیال کے تراشے ہوئے خاکے ہیں اور حقیقت میں تمام مشرک خواہ بت پرست ہوں، قبر پرست یا کسی بھی چیز کو پوجنے والے، وہ محض اپنے خیال ہی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور اسی کی پوجا کر رہے ہیں۔ البتہ اپنے وہم و گمان کے تراشے ہوئے خاکے کا انھوں نے کوئی نہ کوئی نام رکھ چھوڑا ہے، کوئی لات، کوئی عزیٰ، کوئی غوث، کوئی مشکل کشا، کوئی دستگیر، کوئی داتا۔ دیکھیے سورۂ نجم (۲۳ تا ۲۸)۔
➌ { وَ مَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ } میں بعض علماء نے { مَا } کو استفہامیہ بنایا ہے، گویا معنی یہ ہو گا کہ جو لوگ اللہ کے سوا شرکاء کو پکارتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جسے وہ پکار رہے ہیں؟ کیونکہ کسی شریک کا تو وجود ہی نہیں، پھر خود ہی اس سوال کا جواب دیا کہ وہ محض اپنے وہم و گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
➍ { اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ …:} یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور نہ دلیل کو دیکھتے ہیں، اگر عقل سے کام لیتے اور دلیل پر غور کرتے تو انھیں صاف معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق اور اکیلا معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ ان کے پاس وہم و گمان اور اٹکل پچو کے سوا کچھ بھی نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

66۔ 1 یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ محض ظن او تخمین اور رائے و قیاس کی کرشمہ سازی ہے۔ آج اگر انسان اپنے قوائے عقل و فہم کو صحیح طریقے سے استعمال میں لائے تو یقینا اس پر واضح ہوسکتا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے جس طرح وہ آسمان اور زمین کی تخلیق میں واحد ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو پھر عبادت میں دوسرے کیوں کر اس کے شریک ہوسکتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

66۔ سن لو! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کے لئے ہے۔ اب جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کس چیز کی اتباع کرتے ہیں وہ تو محض ظن کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور محض قیاس آرائیاں کر رہے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ٭٭
ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بے دلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو۔ معاش اور روزی کی فکر، سفر تجارت، کاروبار کر سکو، ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں۔