ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 63

الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾
وہ جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔ En
(یعنی) جو لوگ ایمان لائے اور پرہیزگار رہے
En
یہ وه لوگ ہیں جو ایمان ﻻئے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63){الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَ:} کچھ لوگوں نے اولیاء اللہ کچھ انوکھی قسم کے مافوق الفطرت آدمیوں کو سمجھ رکھا ہے، جن سے عجیب و غریب کرامتیں اور شعبدے ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق پھر یہ بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے کہ دیکھا جائے ان کا عقیدہ کیا ہے؟ وہ موحد ہیں یا مشرک، وہ نماز بھی پڑھتے ہیں یا نہیں، پاک دامن اور حلال و حرام کا خیال رکھنے والے بھی ہیں یا نہیں۔ حالانکہ اس قسم کی چیزیں اور شعبدے تو شیطانوں اور ان کے چیلوں مثلاً ہندو جوگیوں سے بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ مسمریزم اور ہپناٹزم کے ماہرین بھی لوگوں کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں، خواہ وہ غیر مسلم ہی ہوں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء، یعنی دوستوں کی پہچان خود بتائی کہ { الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا } یعنی وہ لوگ جنھوں نے قرآن و سنت کے مطابق اپنے اعتقاد کو درست کر لیا۔ { وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَ } اور ہمیشہ گناہوں سے بچتے رہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کرتے رہے۔ لفظ { كَانَ } تقویٰ کے استمرار اور ہمیشگی پر دلالت کر رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر انسان جو عقیدہ و عمل درست کر لے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرلے وہ اللہ کا ولی ہے۔ لیکن لوگ جنگلوں اور پہاڑوں کے عافیت خانوں میں یا خانقاہوں کے حجروں میں ولیوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں، مگر اللہ کے راستے میں جان و مال قربان کرنے والوں سے بڑھ کر اللہ کا ولی (دوست) کون ہو سکتا ہے۔ ولی وہ نہیں جسے سُرخاب کا پر لگا ہوا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ خود اپنے فرمان کے مطابق تمام اہل ایمان کا ولی ہے، فرمایا: «{ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [البقرۃ: ۲۵۷] اللہ ان لوگوں کا ولی (دوست) ہے جو ایمان لائے۔ اور دیکھیے سورۂ مائدہ (۵۵) اور یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ جن کا ولی ہے وہ اللہ کے ولی ہیں، کیونکہ دوستی دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں ہی کا ولی ہے، دشمنوں کا ولی ہر گز نہیں۔ پھر دوستی اور دشمنی کے درمیان کوئی مرتبہ نہیں، کوئی بھی شخص یا اللہ کا دوست ہو گا یا دشمن، اب آپ خود سوچ لیں کہ آپ اللہ کے دوست ہیں یا دشمن۔ اللہ کے یہ دوست ہر طبقے میں موجود ہیں، علماء، تاجر، صنعت کار، مزدور، کاشت کار، غرض ضروری نہیں کہ پیر یا مولوی ہی ولی ہو، بلکہ ہر طبقے میں ایمان اور تقویٰ والے لوگ اللہ کے ولی ہیں۔ البتہ ایسا شخص جو غیب کی باتیں بتاتا ہو، یا کائنات میں قدرت و اختیار رکھنے کی ڈینگ مارتا ہو، یا لوگ اس کے سامنے اس کی یہ شان بیان کرتے ہوں اور وہ چپ رہ کر ان کی تائید کرتا ہو، وہ رحمان کا ولی ہرگز نہیں، وہ تو شیطان کا ولی ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ اولیاء کے درجے یقینا مختلف ہیں، اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی خلت، ولایت اور دوستی دوسرے رسولوں کو بھی حاصل نہیں ہو سکی، عام آدمی کو کیسے مل سکتی ہے، پھر انبیاء میں بھی درجے ہیں، فرمایا: «{ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ [البقرۃ: ۲۵۳] یہ رسول، ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ اسی طرح اہل ایمان کے ایمان و تقویٰ کے فرق کے مطابق ان کی ولایت میں بھی فرق ہو گا، ہاں کوئی بھی مخلص مومن اللہ کی ولایت سے یکسر محروم نہیں اور یہ دوستی اپنے درجے کے مطابق قیامت کے دن کسی نہ کسی وقت ضرور کام آئے گی۔ پھر کافر بھی خواہش کریں گے کہ کاش! ہم کسی درجے کے بھی مسلمان ہوتے، فرمایا: «{رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ [الحجر: ۲] بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاش! وہ مسلمان ہوتے۔ یعنی جن کے دل میں ذرہ برابر یا اس سے بھی کم ایمان ہو گا وہ جہنم سے نکل کر جنت میں جائیں گے تو کفار چاہیں گے کاش! دنیا میں ہم بھی مسلم بن جاتے، خواہ کسی درجے کے، تاکہ ہمیشہ کے لیے تو جہنم میں نہ رہتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اولیاء اللہ کا تعارف ٭٭
اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بے خوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آ جائے۔‏‏‏‏ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلاً بھی مروی ہے۔ [طبرانی کبیر:12325]‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور شہدا بھی رشک کریں گے } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ ہمیں بتائیے تاکہ ہم بھی ان سے محبت و الفت رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ مالی فائدے کی وجہ سے انہیں رشتے داری اور نسب کی بناء پر نہیں، صرف اللہ کے دین کی وجہ سے ان کے چہرے نورانی ہوں گے یہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ سب کو ڈر خوف ہو گا لیکن یہ بالکل بے خوف اور محض نڈر ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے یہ بے غم ہوں گے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی }۔ یہی روایت منقطع سند سے ابوداؤد میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3527،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ { دور دراز کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں سے الگ شدہ لوگ جن میں کوئی رشتہ کنبہ قوم برادری نہیں وہ محض توحید و سنت کی وجہ سے اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کے لیے آپس میں ایک ہو گئے ہوں گے اور آپس میں میل ملاپ، محبت، مودت، دوستی اور بھائی چارہ رکھتے ہونگے، دین میں سب ایک ہوں گے، ان کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نورانی منبر بچھا دے گا جن پر وہ عزت سے تشریف رکھیں گے۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن یہ با اطمینان ہوں گے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے اولیا جن پر کوئی خوف غم نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد343/5:ضعیف]‏‏‏‏
خوابوں کے بارے میں ٭٭
خوابوں کے بارے میں مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتوں کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ { یہ نیک خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دکھائے جائیں } }۔ [مسند احمد445/6، صحیح]‏‏‏‏
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے جب اس کا سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ باپ پوچھی جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی سوائے اس شخص کے جس نے یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کے دینے سے پہلے نہیں فرمایا تھا کہ ’ تجھ سے پہلے میرے کسی امتی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا ‘۔ خود انہی صحابی رضی اللہ عنہ سے جب سائل نے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فرما کر پھر تفسیر مرفوع حدیث سے بیان فرمائی۔
اور روایت میں ہے { سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آخرت کی بشارت تو جنت ہے دنیا کی بشارت کیا ہے؟ فرمایا: { نیک خواب جسے بندہ دیکھے یا اس کے لیے اوروں کو دکھائے جائیں، یہ نبوت کا چوالیسواں یا سترواں جز ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17735:ضعیف]‏‏‏‏۔
{ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ انسان نیکیاں کرتا ہے پھر لوگوں میں اس کی تعریف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی دنیوی بشارت ہے } }۔ [صحیح مسلم2642]‏‏‏‏
فرماتے ہیں کہ { دنیا کی بشارت نیک خواب ہیں جن سے مومن کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے اس کے دیکھنے والے کو اسے بیان کرنا چاہیئے اور جو اس کے سوا دیکھے وہ شیطانی خواب ہیں تاکہ اسے غم زدہ کر دے۔ چاہیئے کہ ایسے موقعہ پر تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دے۔ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور کسی سے اس خواب کو بیان نہ کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:219/2:صحیح لغیرہ]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17769:صحیح بالشواہد]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { دنیوی بشارت نیک خواب، اور اُخروی بشارت جنت }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743:ضیعف]‏‏‏‏۔
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبوت جاتی رہی خوشخبریاں رہ گئیں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743، ضعیف]‏‏‏‏۔
«بُشْرَىٰ» کی یہی تفسیر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، ابن زبیر، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے وہ خوشخبری ہے جو مومن کو اس کی موت کے وقت فرشتے دیتے ہیں جس کا ذکر «‏‏‏‏إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32]‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ سچے پکے مومنوں کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو، تم غم نہ کرو، تمہیں ہم اس جنت کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں تمہارے کار ساز ولی ہیں۔ سنو تم جو چاہو گے جنت میں پاؤ گے، جو مانگو گے ملے گا۔ تم غفور و رحیم اللہ کے خاص مہمان بنو گے ‘۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں ہے مومن کی موت کے وقت نورانی سفید چہرے والے پاک صاف اجلے سفید کپڑوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے پاک روح چل کشادگی راحت تروتازگی اور خوشبو اور بھلائی کی طرف چل۔
تیرے اس پالنہار کی طرف جو تجھ سے کبھی خفا نہیں ہونے کا۔ پس اس کی روح اس بشارت کو سن کر اس کے منہ سے اتنی آسانی اور شوق سے نکلتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا کوئی قطرہ چھو جائے۔ اور آخرت کی بشارت کا ذکر «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:103]‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ انہیں اس دن کی زبردست پریشانی بالکل ہی نہ گھبرائے گی ادھر ادھر سے ان کے پاس فرشتے آئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا ‘۔
ایک آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [57-الحديد:12]‏‏‏‏ ’ جس دن تو مومن مردوں عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا، لو تم خوشخبری سن لو کہ آج تمہیں وہ جنتیں ملیں گی، جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں کی رہائش ہمیشہ کی ہوگی، یہی زبردست کامیابی ہے، اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا ‘۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، اس نے جو فرما دیا سچ ہے، ثابت ہے، اٹل ہے یقینی اور ضروری ہے۔ یہ ہے پوری مقصد آوری، یہ ہے زبردست کامیابی، یہ ہے مراد کا ملنا اور یہ ہے گود کا بھرنا۔