ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 62

اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾
سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ En
سن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
En
یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وه غمگین ہوتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) {اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ …: اَلَا } حرف تنبیہ کہلاتا ہے، یعنی خوب سن لو، آگاہ ہو جاؤ، بہت اہم بات ہونے والی ہے۔ حافظ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ نے ایک رسالہ لکھا ہے { اَلْاَخْلَاقُ وَ السِّيَرُ } جس میں اپنی زندگی کے تجربات کا نچوڑ بیان فرمایا ہے، اس میں وہ فرماتے ہیں: میں نے غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ دنیا میں جو شخص کوئی بھی محنت کرتا ہے اس کے پیش نظر خوشی کا حصول اور خوف (و غم) سے بچنا ہوتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوشی کے حصول اور خوف و غم سے بچنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ولایت اور دوستی کا حصول۔ چنانچہ فرمایا: سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یعنی آخرت میں یا دنیا اور آخرت دونوں میں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ خوف (ڈر) آنے والی چیز کا ہوتا ہے اور غم گزری ہوئی مصیبت کا۔ اللہ تعالیٰ کے اولیاء (دوستوں) کو مستقبل کا کوئی خوف نہیں، کیونکہ آخرت میں وہ ہر خوف سے آزاد ہوں گے۔ وہاں انھیں نہ کسی مصیبت کے آنے یا نعمت کے چھن جانے کا خوف ہو گا، نہ کسی گزشتہ چیز کا غم۔ اس کے برعکس چونکہ اللہ کے دشمنوں کا نہ آخرت پر ایمان ہے نہ اس کی نعمتوں میں ان کا کوئی حصہ، فرمایا: «{ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ہود: ۱۶] یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہو گیا جو کچھ انھوں نے اس دنیا میں کیا اور بے کار ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ اس لیے ان کا ایک ایک لمحہ خوف میں گزرتا ہے، جو نعمت انھیں حاصل ہے اس کے چھن جانے کا خوف اور جو حاصل نہیں اس کے حاصل نہ ہو سکنے کا غم، پھر موت کا خوف، پھر بعد میں کیا ہو گا، کچھ خبر ہی نہیں، غرض خوف ہی خوف۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال و اولاد کو بھی حیاتِ دنیا میں انھیں عذاب دینے کا ذریعہ بتایا۔ اللہ کے اولیاء کو آخرت میں کوئی غم نہیں ہو گا، کیونکہ ان پر دنیا میں گزری ہوئی ہر تکلیف جنت کی ایک ڈبکی سے کافور ہو جائے گی، پھر غم کیسا؟ دنیا میں آنے والی مصیبتیں دنیا میں بھی ان کے لیے کفار کی طرح غم کا باعث نہیں بنتیں، کیونکہ ایک تو انھیں ہر مصیبت پر اجر کی امید ہوتی ہے، دوسرے تقدیر پر ان کا ایمان انھیں کفار جیسے غم سے بچاتا ہے کہ اللہ کی تقدیر میں لکھی ہوئی کوئی مصیبت ہماری کسی تدبیر سے نہ ٹل سکتی تھی، نہ ٹل سکتی ہے، پھر غم سے کیا حاصل، فرمایا: «{ لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ [الحدید: ۲۳] تاکہ تم نہ اس پر غم کر و جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا کرے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 نافرمانوں کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فرماں برداروں کا ذکر فرما رہا ہے اور وہ ہیں اولیاء اللہ۔ اولیاء ولی کی جمع ہے، جس کے معنی لغت میں قریب کے ہیں۔ اس اعتبار سے اولیاء اللہ کے معنی ہوں گے، وہ سچے اور مخلص مومن جنہوں نے اللہ کی اطاعت اور معاصی سے اجتناب کر کے اللہ کا قرب حاصل کرلیا۔ اسی لیے اگلی آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی تعریف ان الفاظ سے بیان فرمائی، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا۔ اور ایمان وتقوی ہی اللہ کے قرب کی بنیاد اور اہم ترین ذریعہ ہے، اس لغت سے ہر متقی مومن اللہ کا ولی ہے۔ لوگ ولایت کے لیے اظہار کرامت کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اور پھر وہ اپنے بنائے ہوئے ولیوں کے لیے جھوٹی سچی کرامتیں مشہور کرتے ہیں۔ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ کرامت کا ولایت سے چولی دامن کا ساتھ ہے نہ اس کے لیے شرط۔ یہ ایک الگ چیز ہے کہ اگر کسی سے کرامت ظاہر ہوجائے تو اللہ کی مشیت ہے، اس میں اس بزرگ کی مشیت شامل نہیں ہے۔ لیکن کسی متقی مومن اور متبع سنت سے کرامت کا ظہور ہو یا نہ ہو، اس کی ولایت میں کوئی شک نہیں۔ خوف کا تعلق مستقبل سے ہے اور غم (حزن) کا ماضی سے، مطلب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے زندگی خدا خوفی کے ساتھ گزاری ہوتی ہے۔ اس لیے قیامت کی ہولناکیوں کا اتنا خوف ان پر نہیں ہوگا، جس طرح دوسروں کو ہوگا۔ بلکہ وہ اپنے ایمان وتقوی کی وجہ سے اللہ کی رحمت وفضل خاص کے امیدوار اور اس کے ساتھ حسن ظن رکھنے والے ہوں گے۔ اسی طرح دنیا میں وہ جو کچھ چھوڑ گئے ہوں گے یا دنیا کی لذتیں انھیں حاصل نہ ہوسکی ہوں گی، ان پر انھیں کوئی حزن وملال نہیں ہوگا۔ ایک دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ دنیا میں جو مطلوبہ چیزیں انھیں نہ ملیں، اس پر وہ غم وحزن کا مظاہرہ نہیں کرتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی قضا و تقدیر ہے۔ جس سے ان ان کے دلوں میں کوئی کدورت پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ان کے دل قضائے الہی پر مسرور و مطمئن رہتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ سن لو! جو اللہ کے دوست [77] ہیں انھیں نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ [78] غمگین ہوں گے
[77] اولیاء اللہ کی پہچان:۔
اولیاء اللہ کی تعریف اگلی آیت میں یہ بتلائی گئی ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں اور اللہ سے ڈرتے رہیں اور متقین کی صفات جو سورۃ بقرہ کی ابتداء میں بیان ہوئی ہیں وہ یہ ہیں وہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور اس کتاب یعنی قرآن اور سابقہ کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ گویا جن ایمان لانے والوں میں مذکورہ صفات پائی جائیں وہ سب اولیاء اللہ ہیں پھر چونکہ ایمان اور اتقاء کے بھی کئی درجے ہیں اس لحاظ سے اولیاء اللہ کے بھی کئی درجے ہوئے اور عرف عام میں اولیاء اللہ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ایمان و تقویٰ کے بلند درجات پر فائز ہوں اس کی مثال یوں سمجھیے کہ پچاس، سو روپیہ بھی مال و دولت ہے لیکن مالدار اسی شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس ہزاروں اور لاکھوں روپے اپنی ضروریات زندگی سے زائد موجود ہوں اسی لحاظ سے بعض صحابہ سے ولی کی یہ صفت منقول ہے کہ ولی وہ مسلمان ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے اور مخلوق خدا سے انھیں بے لوث محبت ہو۔
موجودہ دور میں اولیاء اللہ کا مفہوم:۔
قرن اول میں بھی کچھ ایسے مسلمان موجود تھے جن کی طبائع زہد و تقویٰ اور عبادت کی طرف زیادہ مائل ہو گئیں پہلی صدی اور دوسری صدی ہجری میں انھیں زہاد اور صالحین کا نام دیا جاتا تھا لیکن تیسری صدی میں جب مسلمانوں پر یونانی اور ہندی فلسفہ کے اثرات پڑنے لگے تو یہ طبقہ ترک دنیا اور رہبانیت کی طرف مائل ہو گیا اور اولیاء اللہ کا مفہوم یکسر بدل گیا اور یہ لفظ صرف ان لوگوں کے لیے مختص ہو گیا جو ریاضتیں اور چلہ کشیاں کریں اور باقاعدہ کسی شیخ یا ولی کی بیعت کے رشتہ میں منسلک ہوں اور ان سے کرامات کا ظہور ہو۔ پھر اس طبقہ میں وحدت الوجود، وحدت الشہود اور حلول جیسے غیر اسلامی عقائد داخل ہو گئے اور ولی کی ولایت کا معیار یہ قرار پایا کہ جس کسی سے کرامات کا ظہور جتنا زیادہ ہو وہ اسی درجہ کا ولی ہے پھر ان لوگوں میں بعض نے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ ہمیں براہ راست اللہ سے خبریں ملتی ہیں اور ہمیں رسول کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض نے شریعت کو ہڈیاں اور اپنے دین طریقت کو اصل مغز قرار دیا اور ولایت کے ایک باقاعدہ باطنی نظام کی داغ بیل رکھ دی۔ ان میں پیری مریدی لازمی قرار دی گئی اور یہ لوگ اپنے اس مخصوص طبقہ کو ہی برتر اور اولیاء اللہ قرار دینے لگے اور ان اولیاء اللہ کے علم غیب، تصرف اور ہیبت سے لوگوں کو ڈرایا جانے لگا اور ایسے نظریات مسلمانوں میں خوب شائع و ذائع کیے گئے۔ شرعی نقطہ نظر سے ایسے نظریات بالکل بے بنیاد ہیں۔
[78] اولیاء اللہ کے لئے بشارت:۔
خوف کا لفظ کسی پیش آنے والے خطرہ کے لیے اور غم کا لفظ ماضی میں کسی چھن جانے والی نعمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس بشارت کا اطلاق دونوں جہانوں میں ہوتا ہے یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ان اولیاء اللہ کا اپنے پروردگار پر اس قدر بھروسہ ہوتا ہے کہ انھیں نہ تو کسی چیز کا خوف خوفزدہ کر سکتا ہے اور نہ ہی انھیں ایسا غم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ زندگی اللہ سے غفلت اور بیکار کاموں میں گذاری ہے یہی صورت آخرت میں بھی ہو گی انھیں نہ اس دن کی ہیبت، ہیبت زدہ کرے گی نہ پیاس ستائے گی اور نہ ہی اور کسی قسم کے دکھ یا عذاب کا خطرہ ہو گا اور نہ دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کے متعلق کچھ حسرت اور ندامت ہو گی نہ کسی مطلوب چیز کے چھن جانے کا افسوس ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اولیاء اللہ کا تعارف ٭٭
اولیا اللہ وہ ہیں جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقویٰ اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقویٰ ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی۔ ایسے لوگ محض نڈر اور بے خوف ہیں قیامت کے دن کی وحشت ان سے دور ہے، نہ وہ کبھی غم و رنج سے آشنا ہوں گے۔ دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہوتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور بہت سے سلف صالحین فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے چہرہ دیکھنے سے اللہ یاد آ جائے۔‏‏‏‏ بزار کی مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ وہ حدیث مرسلاً بھی مروی ہے۔ [طبرانی کبیر:12325]‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن پر انبیاء اور شہدا بھی رشک کریں گے } لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ ہمیں بتائیے تاکہ ہم بھی ان سے محبت و الفت رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ لوگ ہیں جو صرف اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ مالی فائدے کی وجہ سے انہیں رشتے داری اور نسب کی بناء پر نہیں، صرف اللہ کے دین کی وجہ سے ان کے چہرے نورانی ہوں گے یہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ سب کو ڈر خوف ہو گا لیکن یہ بالکل بے خوف اور محض نڈر ہوں گے جب لوگ غمزدہ ہوں گے یہ بے غم ہوں گے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی }۔ یہی روایت منقطع سند سے ابوداؤد میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3527،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ { دور دراز کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں سے الگ شدہ لوگ جن میں کوئی رشتہ کنبہ قوم برادری نہیں وہ محض توحید و سنت کی وجہ سے اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کے لیے آپس میں ایک ہو گئے ہوں گے اور آپس میں میل ملاپ، محبت، مودت، دوستی اور بھائی چارہ رکھتے ہونگے، دین میں سب ایک ہوں گے، ان کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نورانی منبر بچھا دے گا جن پر وہ عزت سے تشریف رکھیں گے۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن یہ با اطمینان ہوں گے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے اولیا جن پر کوئی خوف غم نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد343/5:ضعیف]‏‏‏‏
خوابوں کے بارے میں ٭٭
خوابوں کے بارے میں مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتوں کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ { یہ نیک خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھے یا اس کے لیے دکھائے جائیں } }۔ [مسند احمد445/6، صحیح]‏‏‏‏
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے جب اس کا سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے آج مجھ سے وہ باپ پوچھی جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی سوائے اس شخص کے جس نے یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کے دینے سے پہلے نہیں فرمایا تھا کہ ’ تجھ سے پہلے میرے کسی امتی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا ‘۔ خود انہی صحابی رضی اللہ عنہ سے جب سائل نے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فرما کر پھر تفسیر مرفوع حدیث سے بیان فرمائی۔
اور روایت میں ہے { سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آخرت کی بشارت تو جنت ہے دنیا کی بشارت کیا ہے؟ فرمایا: { نیک خواب جسے بندہ دیکھے یا اس کے لیے اوروں کو دکھائے جائیں، یہ نبوت کا چوالیسواں یا سترواں جز ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17735:ضعیف]‏‏‏‏۔
{ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ انسان نیکیاں کرتا ہے پھر لوگوں میں اس کی تعریف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی دنیوی بشارت ہے } }۔ [صحیح مسلم2642]‏‏‏‏
فرماتے ہیں کہ { دنیا کی بشارت نیک خواب ہیں جن سے مومن کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے اس کے دیکھنے والے کو اسے بیان کرنا چاہیئے اور جو اس کے سوا دیکھے وہ شیطانی خواب ہیں تاکہ اسے غم زدہ کر دے۔ چاہیئے کہ ایسے موقعہ پر تین دفعہ بائیں جانب تھتکار دے۔ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور کسی سے اس خواب کو بیان نہ کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:219/2:صحیح لغیرہ]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17769:صحیح بالشواہد]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { دنیوی بشارت نیک خواب، اور اُخروی بشارت جنت }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743:ضیعف]‏‏‏‏۔
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبوت جاتی رہی خوشخبریاں رہ گئیں } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17743، ضعیف]‏‏‏‏۔
«بُشْرَىٰ» کی یہی تفسیر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، ابن زبیر، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم نخعی، عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے وہ خوشخبری ہے جو مومن کو اس کی موت کے وقت فرشتے دیتے ہیں جس کا ذکر «‏‏‏‏إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32]‏‏‏‏ میں ہے کہ ’ سچے پکے مومنوں کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو، تم غم نہ کرو، تمہیں ہم اس جنت کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں تمہارے کار ساز ولی ہیں۔ سنو تم جو چاہو گے جنت میں پاؤ گے، جو مانگو گے ملے گا۔ تم غفور و رحیم اللہ کے خاص مہمان بنو گے ‘۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں ہے مومن کی موت کے وقت نورانی سفید چہرے والے پاک صاف اجلے سفید کپڑوں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے پاک روح چل کشادگی راحت تروتازگی اور خوشبو اور بھلائی کی طرف چل۔
تیرے اس پالنہار کی طرف جو تجھ سے کبھی خفا نہیں ہونے کا۔ پس اس کی روح اس بشارت کو سن کر اس کے منہ سے اتنی آسانی اور شوق سے نکلتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا کوئی قطرہ چھو جائے۔ اور آخرت کی بشارت کا ذکر «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:103]‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ انہیں اس دن کی زبردست پریشانی بالکل ہی نہ گھبرائے گی ادھر ادھر سے ان کے پاس فرشتے آئے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا ‘۔
ایک آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [57-الحديد:12]‏‏‏‏ ’ جس دن تو مومن مردوں عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا، لو تم خوشخبری سن لو کہ آج تمہیں وہ جنتیں ملیں گی، جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں کی رہائش ہمیشہ کی ہوگی، یہی زبردست کامیابی ہے، اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا ‘۔ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، اس نے جو فرما دیا سچ ہے، ثابت ہے، اٹل ہے یقینی اور ضروری ہے۔ یہ ہے پوری مقصد آوری، یہ ہے زبردست کامیابی، یہ ہے مراد کا ملنا اور یہ ہے گود کا بھرنا۔