وَ مَا ظَنُّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾
اور کیا گمان ہے ان لوگوں کا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے دن میں؟ بے شک اللہ تو لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔
En
اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
En
اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا باندھتے ہیں ان کا قیامت کی نسبت کیا گمان ہے؟ واقعی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 60) ➊ { وَ مَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ:} یعنی ان سے کیا سلوک کیا جائے گا؟(فتح الرحمن) کیا ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے بلا دلیل اپنے پاس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے کر اللہ پر بہتان باندھنے پر ان کی کوئی پکڑ نہ ہو گی اور انھیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟
➋ { اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ …: ” فَضْلٍ “} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بہت بڑے فضل والا ہے کہ پیدا کرکے عقل اور ہر نعمت بخشی، پھر انھیں مہلت دی، نافرمانیوں کے باوجود ان کے رزق میں کمی نہ کی، مگر وہ اس کی نرمی اور استدراج (مہلت دینے) کو دیکھ کر گناہوں پر اور دلیر ہو جاتے ہیں اور اس کے دیے ہوئے رزق میں سے جسے چاہتے ہیں حلال اور جسے چاہتے ہیں حرام قرار دے لیتے ہیں۔ اس قسم کی ناشکر گزاری میں مشرکین بھی مبتلا تھے اور اہل کتاب بھی کہ انھوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزوں کو دین بنا رکھا تھا۔ (ابن کثیر)
➋ { اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ …: ” فَضْلٍ “} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بہت بڑے فضل والا ہے کہ پیدا کرکے عقل اور ہر نعمت بخشی، پھر انھیں مہلت دی، نافرمانیوں کے باوجود ان کے رزق میں کمی نہ کی، مگر وہ اس کی نرمی اور استدراج (مہلت دینے) کو دیکھ کر گناہوں پر اور دلیر ہو جاتے ہیں اور اس کے دیے ہوئے رزق میں سے جسے چاہتے ہیں حلال اور جسے چاہتے ہیں حرام قرار دے لیتے ہیں۔ اس قسم کی ناشکر گزاری میں مشرکین بھی مبتلا تھے اور اہل کتاب بھی کہ انھوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزوں کو دین بنا رکھا تھا۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
60۔ 1 یعنی قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ان سے کیا معاملہ فرمائے گا۔ 60۔ 2 کہ وہ انسانوں کا دنیا میں فوراً مواخذا نہیں کرتا، بلکہ اس کے لئے ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا کی نعمتیں بلا تفریق مومن و کافر، سب کو دیتا ہے۔ یا یہ چیزیں انسانوں کے لئے مفید اور ضروری ہیں، انھیں حلال اور جائز قرار دیا ہے، انھیں حرام نہیں کیا۔ 60۔ 3 یعنی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے، یا اس کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کرلیتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
60۔ اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں ان کا قیامت کے دن کے متعلق کیا [75] خیال ہے؟ اللہ تو سب لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
[75] یعنی قیامت کے دن ان حلال اور حرام بنانے والوں سے کیسا سلوک کیا جائے گا؟ اس دن انھیں جو مار پڑے گی اور دکھ کا عذاب سہنا پڑے گا اس کے متعلق بھی ان افتراء پردازوں نے کبھی غور کیا ہے؟ اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان ہے جس نے ہر وقت انھیں ہر اچھے اور برے کام کے انجام سے مطلع کر دیا ہے لیکن بجائے اس کے کہ لوگ اللہ کی اس مہربانی پر اس کے شکر گزار ہوتے الٹا اس کی حدود کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں پھر اسی کے نام سے منسوب بھی کر دیتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت ٭٭
مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَائِنَا» ۱؎ [6-الأنعام:136] ’ اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں ‘۔
مسند احمد میں ہے { عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، { تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ } میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { کس قسم کا مال؟} میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیئے }۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ { تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: { وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ } میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے } } }۔ [سنن ابوداود:4063:صحیح]
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ’ ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بے بس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد میں ہے { عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، { تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ } میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { کس قسم کا مال؟} میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیئے }۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ { تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: { وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ } میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے } } }۔ [سنن ابوداود:4063:صحیح]
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ’ ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بے بس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے ‘۔
اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل و کرم ہی کرتا ہے، وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کر دی ہیں، صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔
تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیاء اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہو گا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔
پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے۔
تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیاء اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہو گا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔
پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے۔
پس میں راتوں کو جاگتا رہا، دنوں کو بھوکا پیاسا رہا، صرف اس جہنم سے ڈر کر تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے تجھے اس جہنم سے آزاد کیا اور تجھ پر میرا یہ خاص فضل ہے کہ تجھے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں پس یہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں چلے جائیں گے پھر تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دے گا کہ صرف تیری محبت میں اور تیرے شوق میں۔ تیری عزت کی قسم میں راتوں کو عبادت میں جاگتا رہا اور دنوں کو روزے رکھ کر بھوک پیاس سہتا رہا، یہ سب صرف تیرے شوق اور تیری محبت کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ اعمال صرف میری محبت اور میرے اشتیاق میں ہی کئے۔ لے اب میرا دیدار کر لے۔ اسوقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دیدار کرائے گا، فرمائے گا دیکھ لے، یہ ہوں میں، پھر فرمائے گا یہ میرا خاص فضل ہے کہ میں تجھے جہنم سے بچاتا ہوں اور جنت میں پہنچاتا ہوں میرے فرشتے تیرے پاس پہنچتے رہیں گے اور میں خود بھی تجھ پر سلام کہا کروں گا، پس وہ مع اپنے ساتھیوں کے جنت میں چلا جائے گا۔