(آیت 56){هُوَيُحْيٖوَيُمِيْتُ …:} یعنی زمین و آسمان کی ملکیت ہی نہیں، زندگی بخشنا اور موت دینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور تمھیں دوبارہ زندہ ہو کر اسی کے پاس جانا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
56۔ 3 ان آیات میں آسمان اور زمین کے درمیان ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت نامہ، وعدہ الٰہی کے برحق، زندگی اور موت پر اس کا اختیار ہے، جو ذات اتنے اختیار کی مالک ہے، اس کی گرفت سے بچ کر کوئی کہاں جاسکتا ہے۔ اور اس نے حساب کتاب کے لئے ایک دن مقرر کیا ہوا ہے۔ اسے کون ٹال سکتا ہے؟ یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہ ایک دن ضرور آئے گا اور ہر نیک و بد کو اس کے عملوں کے مطابق جزا اور سزا دی جائے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
56۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اس کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خالق کل عالم کل ہے ٭٭
مالک آسمان و زمین مختار کل کائنات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر ہی رہیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جلانے مارنے والا وہی ہے، سب باتوں پر وہ قادر ہے۔ جسم سے علیحدہ ہونے والی چیز کو، اس کے بکھر کر بگڑ کر ٹکڑے ہونے کو وہ جانتا ہے اس کے حصے کن جنگلوں میں کن دریاؤں میں کہاں ہیں وہ خوب جانتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔