ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 47

وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُہُمۡ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾
اور ہر امت کے لیے ایک پیغام پہنچانے والا ہے، تو جب ان کا پیغام پہنچانے والا آتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جاتے۔ En
اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا
En
اور ہر امت کے لیے ایک رسول ہے، سو جب ان کا وه رسول آچکتا ہے ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے، اور ان پر ﻇلم نہیں کیا جاتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47) {وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ…:} اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک وہ جو اس آیت کا مفہوم ہے: «{ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا [بنی إسرائیل: ۱۵] اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔ یعنی دنیا میں ہر قوم کی طرف کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجا جاتا ہے، پھر اس کی نافرمانی اور فرماں برداری کو مدنظر رکھ کر جزا و سزا کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ بے گناہ کو سزا نہیں ہوتی اور نہ حجت تمام کیے بغیر ان کا مؤاخذہ کیا جاتا ہے۔ شاہ عبد القادررحمہ اللہ لکھتے ہیں: عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول پہنچ کر سزا ملتی ہے۔ (موضح) پہلی امتوں میں چونکہ دنیا کے لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ نہ تھا، اس لیے ہر امت کے لیے الگ الگ رسول مبعوث ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت دنیا کے تمام ممالک کے درمیان روابط پیدا ہو چکے تھے اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ تمام دنیا ایک آبادی کی طرح بن جانے والی ہے، اس لیے خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ اب آپ پر ایمان لانا یا نہ لانا قیامت کے دن جنت یا دوزخ میں جانے کا سبب ہو گا۔ دوسرا مفہوم آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر امت کے سامنے اس کا رسول بطور شاہد پیش ہو گا کہ میں نے اس امت کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا، پھر وہ سب لوگ بھی جنھوں نے دوسروں تک پیغام حق پہنچایا بطور گواہ پیش ہوں گے، پھر ان کی شہادت کی روشنی میں انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو گا۔ یہی بات ان آیات میں کہی گئی ہے: «{ فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِيْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيْدًا [النساء: ۴۱] پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور فرمایا: «{ وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ [الزمر: ۶۹] اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہو جائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہر امت میں ہم رسول بھیجتے رہے۔ اور جب رسول اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرچکتا تو پھر ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیتے۔ یعنی پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو بچا لیتے اور دوسروں کو ہلاک کردیتے۔ کیونکہ " وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا " اور ہماری عادت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب بھیج دیا جاتا یا بغیر حجت تمام کیے، ان کا مواخذہ کرلیا جاتا۔ (فتح القدیر) اور دوسرا مفہوم اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق قیامت سے ہے یعنی قیامت والے دن ہر امت جب اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگی، تو اس امت میں بھیجا گیا رسول بھی ساتھ ہوگا۔ سب کے اعمال نامے بھی ہوں گے اور فرشتے بھی بطور گواہ پیش ہوں گے۔ اور یوں ہر امت اور اس کے رسول کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ امت محمدیہ کا فیصلہ سب سے پہلے کیا جائے گا۔ جیسا کہ فرمایا " ہم اگرچہ سب کے بعد آنے والے ہیں لیکن قیامت کو سب سے آگے ہوں گے " اور تمام مخلوقات سے پہلے ہمارا فیصلہ کیا جائے گا۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الجمعہ، باب ھدایہ ھذہ الامۃ لیوم الجمعہ) (تفسیر ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ ہر امت کے لئے ایک رسول ہے۔ پھر جب ان کے پاس رسول آتا ہے تو پورے انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ [64] چکا دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا
[64] اور یہ ضابطہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہی مختص نہیں بلکہ تمام امتوں کے متعلق اللہ کا یہی دستور رہا ہے کہ جب لوگ اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو خبردار کرنے کے لیے اپنا رسول بھیجتا ہے اس طرح لوگوں پر اتمام حجت کرتا ہے پھر کچھ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ اس کا انکار کر کے اس کے درپے آزار ہو جاتے ہیں اس طرح حق اور باطل کی سرد اور گرم جنگ شروع ہو جاتی ہے اور اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ وہ حق پرستوں کی تائید کرتا ہے اور باطل پرستوں کو ذلت اور عذاب سے دوچار کر دیتا ہے اور اللہ کا یہ فیصلہ اس لیے انصاف پر مبنی ہوتا ہے کہ اللہ اتمام حجت سے پہلے کسی کو سزا نہیں دیتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے ٭٭
فرمان ہے کہ ’ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں، بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے، اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ‘۔
طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی } کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا } }۔ [طبرانی کبیر3055:ضعیف]‏‏‏‏
ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:69]‏‏‏‏ والی آیت میں ہے۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی، رسول موجود ہو گا، نامہ اعمال ساتھ ہو گا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے } } [صحیح بخاری:6624]‏‏‏‏۔
اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔