وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۴۶﴾
اور اگر کبھی ہم تجھے اس کا کچھ حصہ واقعی دکھلا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا تجھے اٹھا ہی لیں تو ہماری ہی طرف ان کا لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
En
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے
En
اور جس کا ان سے ہم وعده کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں یا (ان کے ﻇہور سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، سو ہمارے پاس تو ان کو آنا ہی ہے۔ پھر اللہ ان کے سب افعال پر گواه ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 46) ➊ {وَ اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ …:} یعنی اسلام کے غلبے اور مخالفین کی ذلت و خواری، یعنی قتل و قید اور شکست کے جو وعدے ہم ان کفار سے وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں، اگر ہم ان میں سے بعض آپ کی زندگی ہی میں پورے کرکے آپ کو دکھلا دیں، یا ان میں سے بعض کے پورا کرنے سے پہلے ہی آپ کو اٹھا لیں، دونوں حالتوں میں انھیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس پر اچھی طرح گواہ ہے جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وہاں وہ ان کا انجام آپ کو دکھا دے گا۔ {” شَاهِدٌ “} کا معنی گواہ اور {” شَهِيْدٌ “} میں مبالغہ ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کچھ وعدے آپ کی زندگی میں پورے کر دکھائے، مثلاً اہل مکہ پر قحط، بھوک اور خوف کا مسلط ہونا۔ دیکھیے نحل (۱۱۲) اس قحط کی وجہ سے ان کا ہڈیاں تک کھا جانا اور زمین و آسمان کے درمیان انھیں ہر طرف دھواں نظر آنا۔ دیکھیے دخان (۱۰، ۱۱) حتیٰ کہ اس وقت کفار کے سردار ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر یوں بارش کی دعا کی درخواست کی: [أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوْا، فَادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَّكْشِفَ عَنْهُمْ، فَدَعَا] [بخاری، التفسیر، باب «ثم تولوا …» : ۴۸۲۴] ”اے محمد! بے شک تیری قوم کے لوگ ہلاک ہو گئے، پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے (اس مصیبت کو) دور کر دے تو آپ نے دعا کی۔“ پھر بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور آخر میں فتح مکہ و خیبر اور پورے جزیرۂ عرب کا آپ کی زندگی میں حلقہ بگوش اسلام ہونا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی زندگی میں دکھا دیا اور کچھ وعدے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاء کے زمانے میں پورے ہوئے۔ بہرحال آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک نہ رہا۔ موضح القرآن میں ہے: ”غلبۂ اسلام کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو ہوا اور باقی آپ کے خلیفوں سے۔“ شاید {”اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ“} میں دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کچھ وعدے آپ کی زندگی میں پورے کر دکھائے، مثلاً اہل مکہ پر قحط، بھوک اور خوف کا مسلط ہونا۔ دیکھیے نحل (۱۱۲) اس قحط کی وجہ سے ان کا ہڈیاں تک کھا جانا اور زمین و آسمان کے درمیان انھیں ہر طرف دھواں نظر آنا۔ دیکھیے دخان (۱۰، ۱۱) حتیٰ کہ اس وقت کفار کے سردار ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر یوں بارش کی دعا کی درخواست کی: [أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوْا، فَادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَّكْشِفَ عَنْهُمْ، فَدَعَا] [بخاری، التفسیر، باب «ثم تولوا …» : ۴۸۲۴] ”اے محمد! بے شک تیری قوم کے لوگ ہلاک ہو گئے، پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے (اس مصیبت کو) دور کر دے تو آپ نے دعا کی۔“ پھر بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور آخر میں فتح مکہ و خیبر اور پورے جزیرۂ عرب کا آپ کی زندگی میں حلقہ بگوش اسلام ہونا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی زندگی میں دکھا دیا اور کچھ وعدے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاء کے زمانے میں پورے ہوئے۔ بہرحال آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک نہ رہا۔ موضح القرآن میں ہے: ”غلبۂ اسلام کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو ہوا اور باقی آپ کے خلیفوں سے۔“ شاید {”اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ“} میں دوسرے دور کی طرف اشارہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے ہم ان کفار کے بارے میں جو وعدہ کر رہے ہیں اگر انہوں نے کفر و شرک پر اصرار جاری رکھا تو ان پر بھی عذاب الٰہی آسکتا ہے، جس طرح پچھلی قوموں پر آیا، ان میں سے بعض اگر ہم آپ کی زندگی میں بھیج دیں تو یہ بھی ممکن ہے، جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی۔ لیکن اگر آپ اس سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لئے گئے، تب بھی کوئی بات نہیں، ان کافروں کو بالآخر ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ ان کے سارے اعمال و احوال کی ہمیں اطلاع ہے، وہاں یہ ہمارے عذاب سے کس طرح بچ سکیں گے، قیامت کے وقوع کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہاں اطاعت گزاروں کو ان کی اطاعت کا صلہ اور نافرمانوں کو ان کی نافرمانی کی سزا دی جائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں اس کا کچھ حصہ خواہ آپ کے جیتے جی آپ کو دکھلا دیں [62] یا (اس سے پہلے ہی) آپ کو اٹھا لیں۔ انھیں بہرحال ہمارے پاس ہی [63] لوٹ کر آنا ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے
[62] کافروں پر عذاب کی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟
کافروں اور مشرکوں کے لیے سب سے بڑا دکھ اور عذاب اسلام کا غلبہ اور ان کی ذلت آمیز شکست ہی ہو سکتا تھا تو اس عذاب کا بہت بڑا حصہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی آپ نے خود اور سب مسلمانوں اور کافروں نے دیکھ لیا اسلام بدستور آگے بڑھتا رہا اور ترقی کی منازل بڑی تیزی سے طے کرتا گیا اور غزوہ بدر سے لے کر غزوہ تبوک تک کافروں کو میدان جنگ میں بھی اور معاشرتی طور پر بھی شکست اور ذلت ہی نصیب ہوتی رہی۔ رہی سہی کسر اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد نکال دی اور دور عثمانی تک ایک وقت ایسا آیا جب کہ قریب قریب ساری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجتا تھا اور کفر پوری طرح مغلوب و مقہور ہو چکا تھا۔
[63] پھر کافروں سے عذاب کا وعدہ صرف دنیا کی زندگی پر ہی موقوف نہ تھا بلکہ آخرت میں عذاب کا وعدہ مستقل طور پر موجود تھا یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر دنیا میں وہ عذاب سے دوچار ہو چکے تو آخرت میں چھوٹ جائیں گویا دنیا کی زندگی میں اگر کوئی کافر عذاب سے بچ بھی جائے تو اخروی عذاب تو بہرحال یقینی اور بڑا سخت ہے۔
[63] پھر کافروں سے عذاب کا وعدہ صرف دنیا کی زندگی پر ہی موقوف نہ تھا بلکہ آخرت میں عذاب کا وعدہ مستقل طور پر موجود تھا یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر دنیا میں وہ عذاب سے دوچار ہو چکے تو آخرت میں چھوٹ جائیں گویا دنیا کی زندگی میں اگر کوئی کافر عذاب سے بچ بھی جائے تو اخروی عذاب تو بہرحال یقینی اور بڑا سخت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے ٭٭
فرمان ہے کہ ’ اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں، بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے، اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ‘۔
طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی } کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا } }۔ [طبرانی کبیر3055:ضعیف]
ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:69] والی آیت میں ہے۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی، رسول موجود ہو گا، نامہ اعمال ساتھ ہو گا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے } } [صحیح بخاری:6624]۔
اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔
طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی } کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا } }۔ [طبرانی کبیر3055:ضعیف]
ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:69] والی آیت میں ہے۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی، رسول موجود ہو گا، نامہ اعمال ساتھ ہو گا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے } } [صحیح بخاری:6624]۔
اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اے رسول! ان جھٹلانے والوں کے بارے میں غمزدہ نہ ہوں اور نہ ان کے بارے میں عجلت سے کام لیں کیونکہ وہ عذاب ان پر ضرور نازل ہوگا جس کا ہم ان کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں یا تو یہ عذاب دنیا میں نازل ہوگا اور آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور آپ کا دل ٹھنڈا ہوگا یا ان کے مرنے کے بعد انھیں آخرت میں اس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا، انھیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ فرمائے گا اس نے ان کے اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے جبکہ انھوں نے فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں کفار کے لیے سخت وعید ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے جن کو ان کی قوم نے جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لا تحزن أيها الرسول على هؤلاء المكذِّبين، ولا تستعجلْ لهم؛ فإنهم لا بدَّ أن يصيبهم الذي نَعِدُهم من العذاب: إما في الدنيا فتراه بعينك وتَقَرُّ به نفسُك، وإما في الآخرة بعد الوفاء؛ فإنَّ مرجِعَهم إلى الله، وسينبِّئهم بما كانوا يعملون أحصاهُ [اللهُ] ونسوهُ، والله على كلِّ شيءٍ شهيدٌ؛ ففيه الوعيد الشديد لهم والتسلية للرسول الذي كذَّبه قومُه وعاندوه.