تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[53] اس جملہ میں قرآن کی دو مزید صفات بیان فرمائیں ایک یہ کہ یہ پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق و توثیق کرتا ہے یعنی جو اصول دین (یعنی الکتاب یا کتاب کی اصل ہیں) ان الہامی کتابوں میں مذکور ہوئے وہی اس میں بھی مذکور ہیں یہ کوئی نئے اصول پیش نہیں کر رہا اور دوسری یہ کہ جو کچھ اصول دین سابقہ کتابوں میں مذکور ہوئے ہیں ان کو مختلف پیرایوں میں اور دلائل و براہین کے ساتھ ان کی تشریح و توضیح بھی کرتا ہے اور یہی اوصاف قرآن کے مُنَزِّلْ مِنَ اللّٰہِ ہونے کے ثبوت ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں موجود عیسائی مشنریوں کے مبلغین کی طرف سے یہ اعتراض بڑی شد و مد سے اٹھایا گیا ہے کہ اگر قرآن سابقہ الہامی کتابوں کی تعلیم ہی پیش کرتا ہے اور ان سابقہ کتابوں کی تصدیق بھی کرتا ہے تو پھر قرآن کے نازل ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ پھر ”عدم ضرورت قرآن“ پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئیں اور لوگوں میں تقسیم کی گئیں اس اعتراض کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ انجیل بھی کوئی مستقل الہامی کتاب نہیں بلکہ تورات ہی کی توضیح و تشریح پیش کرتی ہے تو پھر آخر اس کی کیا ضرورت تھی اور عیسیٰؑ کے مبعوث ہونے کا کیا فائدہ تھا اب اس سے آگے چلئے۔ تورات کے نزول سے پہلے یعنی موسیٰؑ پر تورات نازل ہونے سے پہلے سیدنا آدمؑ سے لے کر سیدنا موسیٰؑ تک تمام انبیاء پر جو وحی نازل ہوتی رہی اس کے بھی کلیات دین وہی تھے جو تورات میں مذکور ہیں تو پھر آخر تورات کی بھی کیا ضرورت تھی؟ اور اس اعتراض کا حقیقی جواب یہ ہے کہ سابقہ تمام الہامی کتب میں کسی کتاب کا بھی اصل متن محفوظ نہیں رہا جس زبان میں وہ نازل ہوئی تھیں ان کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے انبیاء متعلقہ کے بعد ان کے علماء پر ڈالی تھی۔ خود ان کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی تھی۔ جیسا کہ درج ذیل آیت سے واضح ہے: ﴿اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْريٰةَ فِيْهَا هُدًي وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ﴾ [5: 44] ”ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اللہ کے فرمانبردار انبیاء اور یہود کے مشائخ اور علماء یہود کے درمیان اسی کے مطابق فیصلے کرتے تھے اس لیے کہ اللہ کی کتاب کی حفاظت ان کے ذمہ ڈالی گئی تھی کہ وہ اس کے نگہبان تھے“
گویا تورات سے متعلق مشائخ اور علمائے یہود پر دو طرح کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی ایک تو اس کتاب اللہ کی حفاظت کریں دوسرے اس کے احکام پر عمل کر کے اور اسی کے مطابق فیصلے کر کے اس کی عملی حفاظت کا بھی اہتمام کریں اور یہود کے کتاب کی حفاظت کرنے کا یہ حال ہے کہ انہیں تورات لکھی لکھائی مل گئی جو دو دفعہ ضائع ہوئی پھر سینکڑوں سال بعد لکھی گئی اس میں تحریف بھی کی گئی اور علماء کے اقوال اور الحاقی مضامین شامل کیے گئے اور نوبت بایں جا رسید کہ خود علمائے یہود کو یہ معلوم کرنا دشوار ہو گیا تھا کہ وہ کتاب کے الہامی اور الحاقی حصے کو الگ الگ کر کے پیش کر سکیں اور عملی حفاظت کا حال اس سے بھی برا تھا انہوں نے کئی حرام چیزوں کو حلال اور حلال کو حرام بنا لیا تھا وہ غیر یہود کے اموال کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے ہضم کر جانا درست اور جائز سمجھتے تھے۔ سود کو حلال بنا لیا تھا غلط فتوے دے کر پیسے بٹورتے تھے۔ شرفا کے لئے حدود اللہ کو ساقط کر دیتے تھے اور تورات کی بہت سی آیات کو چھپا جاتے اور لوگوں تک نہیں پہنچاتے تھے۔ اندریں صورت حال ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک نئے جلیل القدر نبی کو مبعوث کر کے اور کتاب انجیل نازل کر کے لوگوں کو صحیح الہامی تعلیم سے روشناس کرائیں چنانچہ سیدنا عیسیٰؑ نے یہی فریضہ سر انجام دیا تھا۔ اب انجیل کا حال سنیے۔ انجیل سیدنا عیسیٰؑ کی موجودگی میں لکھی ہی نہیں گئی بعد میں سب کام روایت پر چلایا گیا اس کے ابتدائی راوی چار ہیں پھر انہوں نے خود قلم بند نہیں کی بلکہ بعد میں آنے والے شاگردوں نے کی جن میں نہ اسناد کا ذکر ہے اور نہ ہی روایت و درایت کا کوئی معیار ملحوظ رکھا گیا ہے پھر یہ جو کچھ بھی تھا وہ بھی اصل زبان میں محفوظ نہیں رہا بلکہ ان چار انجیلوں کے صرف تراجم ہی ملتے ہیں جن میں بے شمار اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان میں تحریف بھی ثابت شدہ امر ہے۔ اندریں حالات ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور جلیل القدر نبی بھیج کر حقیقی تعلیم سے لوگوں کو متنبہ کریں اور یہ ضرورت قرآن کو نازل کر کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کرنے سے پوری کی گئی۔ جو ان تمام امور و عقائد میں دو ٹوک فیصلہ دیتی ہے جن میں اہل کتاب میں اختلاف واقع ہوئے تھے اور وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بے مثل صفتیں بے مثل، جس کے اقوال بے مثل، جس کے افعال بے مثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہوسکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بے حجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں، سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ [سنن ترمذي2906، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے «قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا» ۱؎ [17-الاسراء:88] ’ تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو ‘۔
یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجر کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں۔ لیکن یہ ہے ناممکن یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان و جنات سب جمع ہو جائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کرسکتے۔
جب یہ بھی ان سے نہ ہو سکا تو اور آسانی کر دی گئی اور سورۃ البقرہ میں جو مدنی ہے فرمایا کہ «فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [2-البقرة:23] ’ اچھا ایک ہی سورت اس جیسی بنا کر پیش کرو ‘۔ وہاں بھی ساتھ ہی فرمایا کہ «فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا» ۱؎ [2-البقرة:24] ’ نہ یہ تمہارے بس کی بات ہے نہ ساری مخلوق کے بس کی بات ‘۔
پس اس الہامی کتاب کو جھٹلا کر عذاب الٰہی مول نہ لو۔ اس وقت کلام کی فصاحت و بلاغت پر پورا زور تھا۔ عرب اپنے مقابلے میں سارے جہاں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ اپنی زبان پر بڑا گھمنڈ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ قرآن اتارا کہ سب سے پہلے انہیں شاعروں اور زبان دانوں اور عالموں کی گردنیں اس کے سامنے خم ہوئیں جیسے سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزے نے کہ مردوں کو بحکم الٰہی جِلا دینا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم رب شفاء دے دینا، دنیا کے سب سے پہلے معالجوں اور اطباء کو اللہ کی راہ پر لا کھڑا کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ کام دوا کا نہیں اللہ کا ہے۔ جادوگروں نے سانپ کو جو موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی تھی دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کی نبوت کا یقین کر لیا اور عاجز و درماندہ ہو گئے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نبیوں کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ ان کی وجہ سے لوگ ان پر ایمان لائے۔ میرا ایسا معجزہ قرآن ہے پس مجھے اُمید ہے کہ میرے تابعدار بہ نسبت ان کے بہت ہی زیادہ ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4981]
یہ (کافر) لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر علم حاصل کئے اسے جھٹلانے لگے۔ اب تک تو اس کے مصداق اور حقیقت تک بھی یہ نہیں پہنچے۔ اپنی جہالت و سفاہت کی وجہ سے اس کی ہدایت اس کے علم سے محروم رہ گئے اور چلانا شروع کر دیا کہ ہم اسے نہیں مانتے۔ ان سے پہلے کی امتوں نے بھی اللہ کے کلام کو اسی طرح جھٹلا دیا تھا جس بنا پر وہ ہلاک کر دیئے گئے۔ تو آپ نے دیکھ لیا کہ ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ کسی طرح ان کے پرخچے اڑے؟ ہمارے رسولوں کو ستانے ان کے نہ ماننے کا کبھی انجام اچھا نہیں ہوا۔ تمہیں ڈرنا چاہیئے کہیں انہیں آفتوں کا نشانہ تم بھی نہ بنو۔
تیری اُمت کے بھی بعض لوگ تو اس پر ایمان لائے تجھے رسول برحق مانا ہے۔ تیری باتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں۔ اور بعض ایمان سے رہ گئے ہیں خیر سے خالی ہو گئے ہیں تیرا رب مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے گمراہ اور نیک اس پر ظاہر ہیں ہدایت اور ضلالت کے مستحق اس کے سامنے ہیں۔ وہ عادل ہے ظالم نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حصہ دیتا ہے۔ وہ برکت اور بلندی والا پاک اور انتہائی حسن والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {وما كان هذا القرآن أن يُفْتَرى من دون الله}؛ أي: غير ممكن ولا متصوَّر أن يُفترى هذا القرآن على الله [تعالى]؛ لأنه الكتابُ العظيم، الذي لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه، تنزيلٌ من حكيمٍ حميدٍ، وهو الكتاب الذي لو اجتمعت الإنسُ والجنُّ على أن يأتوا بمثله لا يأتون بمثله ولو كان بعضُهم لبعض ظهيراً، وهو الكتاب الذي تكلَّم به ربُّ العالمين؛ فكيف يقدِرُ أحدٌ من الخلق أن يتكلم بمثله أو بما يقاربه والكلام تابع لعظمة المتكلم ووصفه؟!! فإن كان أحدٌ يماثل اللهَ في عظمتِهِ وأوصاف كمالِهِ؛ أمكن أن يأتي بمثل هذا القرآن، ولو تنزَّلنا على الفرض والتقدير، فتقوَّله أحدٌ على ربِّ العالمين؛ لعاجله بالعقوبة وبادره بالنَّكال.
ولكنَّ الله أنزل هذا الكتاب رحمةً للعالمين وحجَّةً على العباد أجمعين، أنزله {تصديقَ الذي بين يديه}: من كتب الله السماوية؛ بأن وافَقَها وصدَّقها بما شهدت به وبشَّرت بنزوله، فوقع كما أخبرت، {وتفصيلَ الكتاب}: للحلال والحرام والأحكام الدينيَّة والقدريَّة والإخبارات الصادقة. {لا ريبَ فيه من ربِّ العالمين}؛ أي: لا شكَّ ولا مِرْيَةَ فيه بوجهٍ من الوجوه، بل هو الحقُّ اليقين، تنزيلٌ من ربِّ العالمين، الذي ربَّى جميع الخلق بنعمه، ومن أعظم أنواع تربيته أن أنزلَ عليهم هذا الكتاب الذي فيه مصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة، المشتمل على مكارم الأخلاق ومحاسن الأعمال.