وَ مَا یَتَّبِعُ اَکۡثَرُہُمۡ اِلَّا ظَنًّا ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور ان کے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر ایک گمان کی، بے شک گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
En
اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بےشک خدا تمہارے (سب) افعال سے واقف ہے
En
اور ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں۔ یقیناً گمان، حق (کی معرفت) میں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا یہ جو کچھ کررہے ہیں یقیناً اللہ کو سب خبر ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 36) ➊ {وَ مَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا …:} ظن کا لفظ اگرچہ بعض اوقات یقین پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ }» [البقرۃ: ۴۶] ”وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ بے شک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں۔“ بعض اوقات غالب گمان کے معنی میں بھی آتا ہے، جو صحیح گمان ہو، اگرچہ اس میں خطا کا بھی نہایت کمزور سا احتمال ہو۔ جہاں یہ معانی مراد ہوں وہاں اس کا قرینہ اور دلیل بھی موجود ہوتی ہے۔ اس معنی میں ظن پر دنیا کے تمام معاملات چل رہے ہیں، جب تک کسی دلیل سے اس کا غلط ہونا ثابت نہ ہو اس پر عمل واجب ہوتا ہے۔ خط، ٹیلی فون، پیغام کے ذریعے سے پہنچنے والی تمام خبریں ظنی ہوتی ہیں، کیونکہ ان میں غلطی یا جعل سازی کا کمزور سا احتمال موجود ہوتا ہے، مگر سب لوگ ان پر عمل کرتے، ان کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں اور شرعی احکام پر بھی عمل کرتے ہیں، خطا کے احتمال کی پروا نہیں کرتے۔ خبر واحد یا حدیث کو بعض لوگ جو ظنی کہتے ہیں وہ اسی معنی میں ہے، اگرچہ فی نفسہ یہ بات درست نہیں کہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظنی ہیں، بلکہ صحیح احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم قطعی اور یقینی ہیں، خصوصاً صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تمام احادیث اور دوسری کتب کی سنداً صحیح احادیث سب یقینی اور قطعی ہیں اور ان پر عمل واجب ہے۔ البتہ عام طور پر ظن کا جو معنی مراد لیا جاتا ہے وہ ہے ایسا وہم و گمان اور خیال جس کی کوئی بنیاد نہ ہو۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ اکثر اسی مذموم معنی کے لیے استعمال ہوا ہے اور ایسے استعمال کے موقع پر اس کی مذمت کا قرینہ بھی موجود ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ] [بخاری، النکاح، باب لا یخطب علی خطبۃ أخیہ…: ۵۱۴۳] ”ظن (گمان) سے بچو، کیونکہ ظن (گمان) سب سے جھوٹی بات ہے۔“ اس ظن سے وہ بے بنیاد بات مراد ہے جو محض کسی کی تقلید یا وہم و خیال پر مبنی ہو اور اس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ مشرکین کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ محض ظن، یعنی بے بنیاد وہم و خیال کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، جس کی نہ کوئی حقیقت ہے نہ دلیل، جیسا کہ لات، عزیٰ اور منات کے پجاریوں کے متعلق فرمایا: «{ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ }» [النجم: ۲۳] ”یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں۔“ اور فرشتوں کا نام عورتوں والا رکھنے والے مشرکوں کے متعلق فرمایا، جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے: «{ وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا }» [النجم: ۲۸] ”حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔“ یہاں بھی ظن کا یہی معنی ہے، کیونکہ یہ حق کے مقابلے میں آیا ہے اور صاف واضح ہے کہ اللہ کا شریک بنانے والے علم سے بالکل کورے اور کسی بھی عقلی یا نقلی دلیل سے بالکل خالی ہاتھ ہیں اور ایسے وہم و گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتے۔ اسی مفہوم کی تائید کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۶۶) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی جو لوگ پکارتے ہیں حقیقت میں کوئی ایسا شریک ہے ہی نہیں جسے وہ پکارتے ہوں، بلکہ محض اپنے دماغ کے بنائے ہوئے خیالی خاکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے اکثر محض گمان کی پیروی کرتے ہیں، جب کہ حقیقت میں تمام مشرکین محض گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، تو مفسرین نے اسے دو طرح سے حل کیا ہے، ایک تویہ کہ اکثر سے مراد وہ سب کے سب ہیں اور ایسا کلام عرب میں اکثر ہوتا ہے کہ اکثر بول کر سب مراد لیے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان کے اکثر کا تو یہی حال ہے کہ وہ نہ کچھ جانتے ہیں نہ عقل رکھتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ ہی کے واحد معبود ہونے کو جانتے ہیں، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے اور شرک پر اڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ }» [البقرۃ:۲۲] ”پس اللہ کے لیے کسی قسم کے شریک نہ بناؤ، جب کہ تم جانتے ہو (کہ اس کا کوئی شریک نہیں)۔“
➌ { اِلَّا ظَنًّا:} ظن کو نکرہ رکھا ہے کہ ان کے اکثر ایک نہ ایک گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، کسی کا کسی کے متعلق کچھ گمان ہے، کسی کا کسی دوسرے کے متعلق اور ہی گمان ہے۔ اپنے شرکاء کی تعیین اور ان کے اختیارات کے تعین پر بھی ان کا اتفاق نہیں، ہر ایک کا اپنا ایک الگ ہی گمان ہے۔
➍ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ:} یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈرانا ہے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ یقینا اسے خوب جانتا ہے، وہ خود ہی ان سے نمٹ لے گا۔
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے اکثر محض گمان کی پیروی کرتے ہیں، جب کہ حقیقت میں تمام مشرکین محض گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، تو مفسرین نے اسے دو طرح سے حل کیا ہے، ایک تویہ کہ اکثر سے مراد وہ سب کے سب ہیں اور ایسا کلام عرب میں اکثر ہوتا ہے کہ اکثر بول کر سب مراد لیے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان کے اکثر کا تو یہی حال ہے کہ وہ نہ کچھ جانتے ہیں نہ عقل رکھتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ ہی کے واحد معبود ہونے کو جانتے ہیں، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے اور شرک پر اڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ }» [البقرۃ:۲۲] ”پس اللہ کے لیے کسی قسم کے شریک نہ بناؤ، جب کہ تم جانتے ہو (کہ اس کا کوئی شریک نہیں)۔“
➌ { اِلَّا ظَنًّا:} ظن کو نکرہ رکھا ہے کہ ان کے اکثر ایک نہ ایک گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، کسی کا کسی کے متعلق کچھ گمان ہے، کسی کا کسی دوسرے کے متعلق اور ہی گمان ہے۔ اپنے شرکاء کی تعیین اور ان کے اختیارات کے تعین پر بھی ان کا اتفاق نہیں، ہر ایک کا اپنا ایک الگ ہی گمان ہے۔
➍ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ:} یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈرانا ہے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ یقینا اسے خوب جانتا ہے، وہ خود ہی ان سے نمٹ لے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 لیکن بات یہ ہے کہ لوگ محض اٹکل پچو باتوں پر چلنے والے ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ دلائل کے مقابلے میں اوہام و خیالات اور ظن و گمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ قرآن میں ظن، یقین اور گمان دونوں معنی میں استعمال ہوا ہے، یہاں دوسرا معنی مراد ہے۔ 36۔ 2 یعنی اس ہٹ دھرمی کی وہ سزا دے گا، کہ دلائل نہ رکھنے کے باوجود، یہ محض غلط وہم اور دیوانہ پن کے پیچھے لگے رہے اور عقل فہم سے ذرا کام نہ لیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ (حقیقت یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر لوگ قیاس و گمان کے پیچھے چل [51] رہے ہیں حالانکہ گمان حق کے مقابلہ میں کسی کام نہیں آسکتا۔ بلا شبہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں
[51] انسان کے وضع کردہ قوانین حیات کی بنیاد ظن پر ہوتی ہے:۔
یعنی جن لوگوں نے مشرکانہ عقائد اور مذاہب کی داغ بیل ڈالی یا جن لوگوں نے انسانوں کے لیے قوانین حیات وضع کیے ان میں سے کسی بھی چیز کی بنیاد علم پر نہیں بلکہ محض ظن و اوہام پر ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے نتائج غلط نکلتے رہتے ہیں اور انسان کو آئے دن ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے اور جو لوگ ایسے مذہبی یا دنیوی رہنماؤں کی پیروی کرتے ہیں وہ بھی گمان و قیاس ہی سے کرتے ہیں، کہ جب بڑے بڑے لوگ یہ بات کہتے ہیں یا ہمارے آباؤ و اجداد ایسا کہتے یا کرتے چلے آئے ہیں اور لوگوں کی اکثریت ان کی پیروی کر رہی ہے تو یہ باتیں ضرور ٹھیک ہی ہوں گی ان کے پاس بھی کوئی علمی بنیاد موجود نہیں ہوتی پھر بھلا اٹکل کے تیر حق و صداقت کی بحث میں کیا کام دے سکتے ہیں؟ یاد رہے کہ یہاں حق سے مراد ایسے یقینی دلائل ہیں جو کتاب و سنت میں موجود ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔