تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ:} تو یہ مشرک لوگ (جو خطاب کے قابل ہی نہیں ہیں) اپنی پوری عبادت اور اطاعت ایک اللہ کے لیے خالص کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں اور اپنے تمام معبودوں اور بتوں کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ و زاری کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)
➌ { لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ:} یہ تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کا حال بیان فرمایا ہے، مگر ہمارے زمانے کے بعض نام کے مسلمانوں کا حال ان سے بھی بدتر ہے، ان پر جب کوئی بڑی مصیبت آتی ہے، مثلاً دریا میں ڈوبنے یا آگ میں جلنے لگتے ہیں تو بھی شرک سے توبہ نہیں کرتے اور وہی ”یا خواجہ خضر “ ”یا علی مدد“ کا نعرہ لگاتے ہیں، مرتے اور ڈوبتے وقت بھی اللہ کو نہیں پکارتے۔ [لاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
➊ فنا فی الشیخ ➋ فنا فی الرسول ➌ فنا فی اللہ
فنا فی الشیخ کے درجے کی ابتداء تصور شیخ سے کرائی جاتی ہے۔ تصور شیخ سے مراد صرف پیر کی ”غیر مشروط اطاعت“ ہی نہیں ہوتی بلکہ اسے یہ ذہن نشین کرایا جاتا ہے کہ اس کا پیر ہر وقت اس کے حالات سے با خبر رہتا ہے اور بوقت ضرورت اس کی مدد کو پہنچ جاتا ہے اس عقیدہ کو مرید کے ذہن میں راسخ کرنے کے لیے اسے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت پیر کی شکل کو اپنے ذہن میں رکھے یہی واہمہ اور مشق بسا اوقات ایک حقیقت بن کر سامنے آنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو مسلمانوں کو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر مشروط اطاعت کا حکم دیا تھا لیکن صوفیاء کی اس قسم کی تعلیم مرید اور پیر کو عبد اور معبود کے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جس کا کسی نبی کو بھی حق نہ تھا۔ صوفیاء نے پیری کے فن کو خاص تکنیک دے کر عوام پر اس طرح مسلط کر دیا ہے کہ کوئی آدمی اس وقت تک اللہ کے ہاں رسائی پا ہی نہیں سکتا جب تک باقاعدہ کسی سلسلہ طریقت میں داخل نہ ہو۔ پہلے تصور شیخ کی مشق کرے حتیٰ کہ فنا فی الشیخ ہو جائے یعنی اسے اپنی ذات کے لیے حاضر و ناظر، افعال و کردار اور گفتار کو دیکھنے اور سننے والا سمجھنے لگے تب جا کر یہ منزل ختم ہوتی ہے اور عملاً ہوتا یہ ہے کہ مرید بے چارے تمام عمر فنا فی الشیخ کی منزل میں ہی غوطے کھاتے کھاتے ختم ہو جاتے ہیں یہ گویا اللہ اور اس کے رسول سے بیگانہ کرنے اور اپنا غلام بنانے کا کارگر اور کامیاب حربہ ہے چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی کا درج ذیل اقتباس اس حقیقت پر پوری طرح روشنی ڈالتا ہے۔
1۔ تصور شیخ کے عقیدہ کا قرآن و سنت میں کہیں سراغ نہیں ملتا۔
2۔ یہ عقیدہ انتہائی خطرناک اور گمراہ کن ہے۔
3۔ ان دونوں باتوں کے باوجود صوفیاء اور خصوصاً نقشبندیوں نے اللہ تک رسائی کی سب سے بڑی اور اہم شرط قرار دیا ہے: چنانچہ مولانا روم اسی فلسفہ تصور ثلاثہ کی اہمیت یوں بیان فرما رہے ہیں: پیر کامل صورت ظل الٰہ یعنی دید پیر دید کبریا برکہ پیر و ذات اور ایک نہ دید نے مرید نے مرید نے مرید (ترجمہ) ”پیر کامل اللہ کے سایہ کی صورت ہوتا ہے یعنی پیر کو دیکھنا حقیقتاً اللہ ہی کو دیکھنا ہے جس نے پیر اور اللہ کی ذات کو ایک نہ دیکھا وہ ہرگز مرید نہیں ہے، مرید نہیں ہے، مرید نہیں ہے“ اسی عقیدہ کا یہ اثر ہے کہ معین الدین اجمیری نے فرمایا کہ ”اگر روز قیامت اللہ تعالیٰ کا جمال میرے پیر کی صورت میں ہو گا تو دیکھوں گا ورنہ اس کی طرف منہ بھی نہ کروں گا۔“ [رياض السالكين، ص 231]
اور بابا فرید گنج شکر نے فرمایا: ”اگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میرے پیر کی صورت کے سوا کسی دوسری صورت میں اپنا جمال یا کمال دکھائے گا تو میں اس کی طرف آنکھ بھی نہ کھولوں گا“ [اقتباس الانوار، ص 290، مطبوعه مجتبائي دهلي بحواله ايضاً]
اور شیخ محمد صادق نے فرمایا: ”اللہ کا دیدار بھی اگر پیر دستگیر کی صورت میں ہوا تو دیکھوں گا ورنہ اسے بالکل نہ چاہوں گا“ [رياض السالكين، ص 231]
دیکھا آپ نے تصور شیخ کا یہ فارمولا کیسے شاندار نتائج پیدا کر کے مرید کو بس شیخ ہی کی جھولی میں ڈال دیتا ہے یہ عقیدہ جہاں ایک طرف پیر کو خدائی تقدس عطا کرتا ہے تو دوسری طرف مرید کو اندھی عقیدت میں مبتلا کر دیتا ہے اس عقیدہ کو مرید کے ذہن میں راسخ کرنے کے لیے جس طرح کے افسانے تراشے جاتے ہیں ان کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس کے راوی امام اہل سنت احمد رضا خاں مجدد مائۃً حاضر ہیں اور غالباً ”حدیقہ ندیہ“ کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ:
1۔ ہم ہر نماز میں اور اس کی ہر رکعت میں ﴿اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ﴾ پڑھتے ہیں یعنی صرف تجھ اکیلے سے استعانت چاہتے ہیں لیکن یہ واقعہ اللہ کو نظر انداز کر کے پیر سے استعانت کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ لیکن یہ واقعہ بتلاتا ہے کہ مشکل وقت میں اللہ کو پکارنے سے سخت نقصان ہوتا ہے اس کی بجائے اپنے پیر کو بلایا جائے تو بہت ہی فائدہ ہو سکتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ﴿وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ﴾ [2: 186] لیکن یہ واقعہ بتلاتا ہے کہ قریب پیر ہے اللہ تو بہت دور ہے لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ تک رسائی چاہتے ہو تو اپنے پیر کا ذکر کرو۔ اس واقعہ نے شرک کی بہت سی راہیں کھول دی ہیں اور ندا، لغیر اللہ، استمداد، توسل، استعانت اور تصور شیخ جیسے اہم مسائل کو انتہائی ضروری قرار دیا ہے وہاں افسانہ تراش کا کمال یہ ہے کہ ایسا لاجواب افسانہ گھڑا کہ مرید بے چارے کو تسلیم کرنا پڑا کہ میرا اللہ کو پکارنا واقعی ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ اب غالباً آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ مشرکین مکہ جب سمندر میں گھر جاتے تھے اور موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی تھی تو اس وقت صرف اکیلے اللہ کو کیوں پکارنے لگتے تھے اور ہمارے دور کے مشرک اس وقت بھی اپنے پیر کو کیوں پکارتے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
{ رات کو بارش ہوئی، صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا { جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ } صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہمیں کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہو جائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہو جائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہو جائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے } }۔ [صحیح بخاری:846]
یہاں فرماتا ہے کہ ’ جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آ جاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہو گی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔ اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔ تم کشتیوں میں سوار ہو، موافق ہوائیں چل رہی ہیں۔ کشتیاں تیر کی طرح منزل مقصود کو جا رہی ہیں تم خوشیاں منا رہے ہو کہ یکایک باد مخالف چلی اور چاروں طرف سے پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ کھڑی ہوئیں ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں } }۔ [سنن ابوداود4902،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہو گے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے لہٰذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى القاعدة العامة في أحوال الناس عند إصابة الرحمة لهم بعد الضرَّاء واليُسر بعد العسر؛ ذَكَرَ حالةً تؤيِّد ذلك، وهي حالهم في البحر عند اشتداده والخوف من عواقبه، فقال: {هو الذي يُسَيِّرُكم في البرِّ والبحر}: بما يسَّر لكم من الأسباب المسيَّرة لكم فيها وهداكم إليها. {حتى إذا كنتُم في الفُلك}؛ أي: السفن البحريَّة، {وجَرَيْنَ بهم بريح طيِّبة}: موافقة لما يهوونه من غير انزعاج ولا مشقَّة، {وفرحوا بها}: واطمأنُّوا إليها؛ فبينما هم كذلك؛ إذ جاءتهم {ريحٌ عاصفٌ}: شديدة الهبوب، {وجاءهُم الموجُ من كلِّ مكان وظنُّوا أنهم أحيطَ بهم}؛ أي: عرفوا أنه الهلاك، فانقطع حينئذٍ تعلُّقهم بالمخلوقين، وعرفوا أنه لا يُنجيهم من هذه الشدَّة إلا الله وحده، فدعوه {مخلصين له الدين}: ووعدوا من أنفسهم على وجه الإلزام، فقالوا: {لئنْ أنجَيْتَنا من هذه لنكوننَّ من الشاكرينَ. فلما أنجاهم إذا هم يبغونَ في الأرض بغير الحقِّ}؛ أي: نسوا تلك الشدة وذلك الدعاء وما ألزموه أنفسهم، فأشركوا بالله مَن اعترفوا أنه لا يُنجيهم من الشدائد ولا يدفع عنهم المضايق؛ فهلا أخلصوا لله العبادة في الرخاء كما أخلصوه في الشدة؟! ولكنَّ هذا البغي يعود وَبالُه عليهم، ولهذا قال: {يا أيُّها الناس إنَّما بغيكم على أنفسكم متاعَ الحياة الدُّنيا}؛ أي: غاية ما تؤمِّلون ببغيكم وشرودكم عن الإخلاص لله أن تنالوا شيئاً من حُطام الدُّنيا وجاهها النزر اليسير الذي سينقضي سريعاً ويمضي جميعاً ثم تنتقلون عنه بالرغم. {ثم إلينا مرجِعُكم}: في يوم القيامة، {فننبِّئكم بما كنتُم تعملونَ}: وفي هذا غايةُ التحذير لهم عن الاستمرار على عملهم.