ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 19

وَ مَا کَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخۡتَلَفُوۡا ؕ وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ فِیۡمَا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت، پھر وہ جدا جدا ہوگئے اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے طے ہوچکی تو ان کے درمیان اس بات کے بارے میں ضرور فیصلہ کر دیا جاتا جس میں وہ اختلاف کرر ہے ہیں۔ En
اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے۔ اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا
En
اور تمام لوگ ایک ہی امت کے تھے پھر انہوں نے اختلاف پیداکرلیا اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کررہے ہیں ان کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہوتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ { وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا:} اس زمانے کے ملحد فلسفیوں اور تاریخ سازوں کے برعکس قرآن بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کی ابتدا کفر یا شرک سے نہیں بلکہ خالص توحید سے ہوئی۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین، یعنی اسلام رکھتے تھے اور ایک ہی ان کی ملت تھی، لیکن آہستہ آہستہ انھوں نے اس دین سے انحراف کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر آپس میں اختلاف کرکے اپنی اپنی مرضی کے دین اور قانون گھڑ لیے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۳)۔
➋ {وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ …:} یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فیصلہ نہ کر لیا ہوتا کہ دنیا میں لوگوں کو مہلت دی جائے گی، تاکہ وہ اپنی عقل و فہم سے کام لے کر جس راستے کو چاہیں اختیار کریں اور جس راستے کو چاہیں چھوڑ دیں اور قیامت ہی کے دن انھیں ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو کبھی کا اللہ تعالیٰ حقیقت کو بے نقاب کرکے ان لوگوں کو پکڑ چکا ہوتا جو ایمان کا راستہ چھوڑ کر کفر و شرک کے راستے پر چل رہے ہیں۔ (ابن کثیر، قرطبی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 یعنی یہ شرک، لوگوں کی اپنی ایجاد ہے ورنہ پہلے پہل اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ تمام لوگ ایک ہی دین اور ایک ہی طریقہ پر تھے اور وہ اسلام ہے جس میں توحید کی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ حضرت نوح ؑ تک لوگ اسی توحید پر قائم رہے پھر ان میں اختلاف ہوگیا اور کچھ لوگوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی معبود، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا شروع کردیا۔ 19۔ 2 یعنی اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا کہ، تمام حجت سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتا، اس طرح اس نے مخلوق کے لئے ایک وقت کا تعین نہ کیا ہوتا تو یقینا وہ ان کے مابین اختلافات کا فیصلہ اور مومنوں کو سعادت مند اور کافروں کو عذاب میں مبتلا کرچکا ہوتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ ابتداءً لوگ ایک ہی امت تھے پھر انہوں نے آپس میں اختلاف [30] کیا اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے [31] سے طے شدہ نہ ہوتی تو جس بات میں وہ اختلاف کر رہے تھے ان کے درمیان اس کا فیصلہ ہو چکا ہوتا
[30] یعنی سیدنا آدمؑ کے بعد کافی مدت لوگ ایک ہی دین پر رہے پھر اختلاف کر کے فرقے بن گئے ان میں سے کچھ لوگ تو سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات تسلیم کرنے کے بعد ان کے پجاری بن گئے اور کچھ لوگوں نے اپنے بزرگوں کے مجسمے بنائے اور ان کی عبادت کرنے لگے اور توحید کی سیدھی راہ کو چھوڑ کر شرک کی راہوں پر جا پڑے۔
[31] پہلے سے طے شدہ کلمہ کیا ہے؟
وہ طے شدہ بات یہ تھی کہ چونکہ یہ دنیا دار العمل اور دار الامتحان ہے اس لیے کسی کو بھی اس کے جرم کی پاداش میں فوری طور پر سزا نہیں دی جائے گی اگر یہ بات پہلے سے مشیت الٰہی میں نہ ہوتی تو جب کچھ لوگ کوئی نیا فرقہ بناتے تو اللہ کا عذاب انہیں فوراً تباہ و برباد کر دیتا اور اس طرح یہ دنیا کب کی ختم ہو چکی ہوتی اور اگر کچھ لوگ بچ جاتے اور وہ ایمان لے بھی آتے تو ایسے جبری ایمان کا کچھ فائدہ بھی نہ تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شرک کے آغاز کی روداد ٭٭
مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ ’ وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے ‘۔
سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح علیہ السلام تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ «لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ» ۱؎ [8-الأنفال:42]‏‏‏‏ ’ ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مر جائے ‘۔
چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت مؤخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔