تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ بعض مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگاتے تھے کہ قرآن انھوں نے خود ہی تصنیف کیا ہے، اب اپنی اس بات کا ثبوت حاصل کرنے کے لیے وہ آپ سے کوئی اور قرآن لانے کا یا اس میں اپنے پاس سے تبدیلی کا مطالبہ کرتے تھے کہ اگر آپ یہ مطالبہ مان لیں گے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ قرآن خود انھی کا تصنیف کردہ ہے، پھر ہمیں آپ کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے کا موقع مل جائے گا، کفار کی مراد پہلی تفسیر اور اس تفسیر میں مذکور دونوں باتیں ہی ہو سکتی ہیں اور ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
باطل دوئی پرست ہے حق لاشریک ہے شرکت میانہ حق باطل نہ کر قبول
[24] اس جملہ میں کفار کے دونوں نظریات کی تردید کر دی گئی یعنی یہ قرآن میری اپنی تصنیف نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ بات میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں کوئی اور قرآن لاؤں نیز میں اس وحی کی پیروی کا پابند ہوں جو اس قرآن میں ہے لہٰذا مجھے ایسا کوئی اختیار نہیں کہ اس میں کچھ ترمیم و تنسیخ کر کے اسے اس قابل بنا سکوں جس کی بنیاد پر ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی سمجھوتہ یا درمیانی راہ طے پا سکے۔ نیز اگر میں کوئی ایسا کام کر گزروں در آں حالیکہ میں ہی اس قرآن کی اتباع کا داعی ہوں تو پھر مجھ سے بڑھ کر مجرم کون ہو سکتا ہے؟ میں تو اس تصور اور پھر اس کے نتیجہ میں عذاب اخروی کے تصور سے ہی کانپ اٹھتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے؟ کہ میں ایک بے پڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معروضہ اور مقابلہ نہیں کرسکتے۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے؟
شاہ روم ہرقل نے ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی تم نے اسے جھوٹ کی تہمت لگائی ہے؟ تو اسے باوجود دشمن اور کافر ہونے کے کہنا پڑا کہ نہیں، یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت جو دشمنوں کی زبان سے بھی بے ساختہ ظاہر ہوتی تھی۔ ہرقل نے نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں کیسے مان لوں کہ لوگوں کے معاملات میں تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7]
جعفر بن ابوطالب نے دربار نجاشی میں شاہ حبش سے فرمایا تھا ”ہم میں اللہ نے جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے ہم اس کی صدقت امانت نسب وغیرہ سب کچھ جانتے ہیں وہ نبوت سے پہلے ہم میں چالیس سال گزار چکے ہیں۔“ سعید بن مسیب سے تنتالیس سال مروی ہیں لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر تعالى تعنُّت المكذِّبين لرسوله محمد - صلى الله عليه وسلم -، وأنهم إذا تُتلى عليهم آيات الله القرآنية المبيِّنة للحقِّ؛ أعرضوا عنها، وطلبوا وجوه التعنُّت، فقالوا جراءة منهم وظلماً: {ائت بقرآنٍ غير هذا أو بدِّلْه}: فقبَّحهم الله؛ ما أجرأهم على الله وأشدَّهم ظلماً وردًّا لآياته! فإذا كان الرسول العظيم يأمره الله أن يقول لهم: {قلْ ما يكون لي}؛ أي: ما ينبغي ولا يَليقُ {أن أبدِّلَه من تلقاء نفسي}؛ فإني رسولٌ محضٌ، ليس لي من الأمر شيء. {إنْ أتَّبِعُ إلا ما يوحى إليَّ}؛ أي: ليس لي غير ذلك؛ فإني عبدٌ مأمور، {إني أخاف إن عصيتُ ربي عذابَ يوم عظيم}: فهذا قولُ خير الخلق وأدبُه مع أوامر ربِّه ووحيه؛ فكيف بهؤلاء السفهاء الضالِّين الذين جمعوا بين الجهل والضَّلال والظُّلم والعناد والتعنُّت والتعجيز لربِّ العالمين؛ أفلا يخافون عذابَ يوم عظيم؟! فإن زعموا أنَّ قصدهم أن يتبيَّن لهم الحقُّ بالآيات التي طلبوا؛ فهم كَذَبة في ذلك؛ فإنَّ الله قد بيَّن من الآيات ما يؤمن على مثله البشر، وهو الذي يصرِّفها كيف يشاء؛ تابعاً لحكمته الربانيَّة ورحمته بعباده.