وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۡۢبِہٖۤ اَوۡ قَاعِدًا اَوۡ قَآئِمًا ۚ فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنۡ لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ ؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر، یا بیٹھا ہوا، یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کی طرف، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے لیے مزین بنا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے۔
En
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں
En
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی، بیٹھے بھی، کھڑے بھی۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو وه ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا اس نے اپنی تکلیف کے لیے جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا، ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لیے اسی طرح خوشنما بنادیا گیا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 12) {وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ …:} یہاں {” الْاِنْسَانَ “} سے مراد اکثر انسان ہیں، جن میں کفار و مشرکین بھی شامل ہیں، کیونکہ انھی کا ذکر پہلے اور بعد میں چل رہا ہے اور وہ بھی مصیبت کے وقت اللہ کو پکارتے ہیں، پھر مقصد پورا ہو جانے کے بعد سرے سے اسے بھول جاتے ہیں، بعض مومنوں کا بھی یہی حال ہے۔ یعنی انسان اس قدر عاجز و ناتواں ہے کہ جوں ہی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹتے، بیٹھتے اور کھڑے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، لیکن اس کی بے وفائی کا یہ عالم ہے کہ جوں ہی تکلیف دور ہوتی ہے اسی پہلے غرور میں بدمست ہو جاتا ہے اور اپنی مصیبت اور تکلیف سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔ انسان کی اس عادت کا کئی آیات میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ دیکھیے حم السجدہ (۵۱)، زمر (۴۹) اور ہود (۱۰، ۱۱)۔ حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں انھی لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جن کا دعا کا طریقہ یہ ہے، البتہ وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنی توفیقِ خاص سے نوازا ہے وہ ان میں شامل نہیں، کیونکہ وہ سختی اور نرمی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو پکارتے اور اسے یاد رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهٗ كُلَّهٗ لَهٗ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهٗ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ، وَ إِنْ أَصَابَتْهٗ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهٗ] [مسلم، الزہد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹، عن صہیب رضی اللہ عنہ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی خیر ہے اور یہ چیز (کامل) مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے کوئی خوشی حاصل ہو تو شکر کرتا ہے، پس وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، سو وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔“ {”مُسْرِفِيْنَ“} (حد سے بڑھنے والوں) کو یہ نعمت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس آیت میں مذکور لوگوں کی طرح ان کے لیے ان کے اعمال بد ہی خوش نما بنا دیے گئے ہیں۔رہی یہ بات کہ ان کے لیے ان کے اعمال کس نے خوش نما بنائے ہیں، آیت میں اس کا ذکر نہیں، کیونکہ وہ کئی چیزیں ہو سکتی ہیں: (1) شیطان، فرمایا: «{ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ }» [النمل: ۲۴] ”اور شیطان نے ان کے لیے ان کے عمل خوش نما بنا دیے۔“ (2) نفس، فرمایا: «{ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ }» [یوسف: ۵۳] ”بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے۔“
ہمارے لیے اس میں سبق یہ ہے کہ ہمیں مصیبت دور ہونے پر بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور دعا میں کمی نہیں کرنی چاہیے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَّسْتَجِيْبَ اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْكُرَبِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ] [ترمذی، کتاب الدعوات، باب أن دعوۃ المسلم مستجابۃ: ۳۳۸۲، و حسنہ الألباني] ”جسے پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ سختیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو وہ خوش حالی میں کثرت سے دعا کیا کرے۔“
ہمارے لیے اس میں سبق یہ ہے کہ ہمیں مصیبت دور ہونے پر بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور دعا میں کمی نہیں کرنی چاہیے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَّسْتَجِيْبَ اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْكُرَبِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ] [ترمذی، کتاب الدعوات، باب أن دعوۃ المسلم مستجابۃ: ۳۳۸۲، و حسنہ الألباني] ”جسے پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ سختیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو وہ خوش حالی میں کثرت سے دعا کیا کرے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یہ انسان کی اس حالت کا تذکرہ ہے جو انسانوں کی اکثریت کا شیوہ ہے۔ بلکہ بہت سے اللہ کے ماننے والے بھی اس کوتاہی کا عام ارتکاب کرتے ہیں کہ مصیبت کے وقت تو خوب اللہ اللہ ہو رہا ہے، دعائیں کی جا رہی ہیں توبہ استغفار کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ مصیبت کا وہ کڑا وقت نکال دیتا ہے تو پھر بارگاہ الٰہی میں دعا و گڑگڑانے سے غافل ہوجاتے ہیں اور اللہ نے ان کی دعائیں قبول کرکے جس امتحان اور مصیبت سے نجات دی، اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی بھی توفیق انہیں نصیب نہیں ہوتی۔ 12۔ 2 بطور آزمائش اور مہلت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے، وسوسوں کے ذریعے سے شیطان کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے اور انسان اس نفس کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے، جو انسان کی برائی پر امادہ کرتا ہے، تاہم اس کا شکار ہوتے وہی لوگ ہیں جو حد سے گزر جانے والے ہیں۔ یہاں معنی یہ ہوئے کہ ان کے لیے دعا سے اعراض، شکر الہی سے غفلت اور شہوات و خواہشات کے ساتھ اشتغال کو مزین کردیا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں اپنے پہلو پر یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہر حالت میں پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے وہ تکلیف دور کر دیتے ہیں تو ایسے گزر جاتا ہے جیسے اس نے تکلیف کے وقت [18] ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ ایسے حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کو وہی کام اچھے معلوم ہونے لگتے ہیں جو وہ کرتے ہیں
[18] شرکیہ کام خوشحالی میں ہی بھلے لگتے ہیں:۔
انسان کی ایک عادت تو یہ ہے کہ وہ دوسرے کے حق میں یا اپنے لیے کوئی بددعا کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی یہ بددعا جلد از جلد قبول ہو جس کا لازمی نتیجہ سب لوگوں کی تباہی پر منتج ہوتا ہے اور اس کی دوسری عادت یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ کو سچے دل سے پکارنے لگتا ہے اور اللہ سے کئی طرح کے وعدے کرتا ہے لیکن جب اللہ وہ مصیبت دور کر دیتا ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے نہ اسے اللہ یاد رہتا ہے اور نہ اس سے کیے ہوئے وعدے یاد رہتے ہیں پھر اسے اپنے خود ساختہ حاجت روا اور مشکل کشا یاد آنے لگتے ہیں جیسا کہ قریش مکہ نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے قحط دور ہو گیا تو ان لوگوں کی وہی سرکشیاں، بد اعمالیاں، اپنے معبودوں سے لگاؤ اور دین برحق کے خلاف پہلی سی سرگرمیاں پھر شروع ہو گئیں اور مصیبت کے وقت جو دل اللہ کی طرف رجوع کرنے لگے تھے پھر اپنی سابقہ روش اور غفلتوں میں ڈوب گئے اور انہی کاموں میں انہیں لطف آنے لگا اور اچھے معلوم ہونے لگے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مومن ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں ٭٭
اسی آیت جیسی یہ آیت ہے: «وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٍ» ۱؎ [41-فصلت:51] یعنی ’ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے ‘۔
ہر وقت اٹھتے بیٹھے لیٹتے اللہ سے اپنی تکلیف کے دور ہونے کی التجائیں کرتا ہے۔ لیکن جہاں دعا قبول ہوئی تکلیف دور ہوئی اور ایسا ہو گیا جیسے کہ نہ اسے کبھی تکلیف پہنچی تھی نہ اس نے کبھی دعا کی تھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اور انہیں اپنے ایسے ہی گناہ اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ ہاں ایماندار، نیک اعمال، ہدایت و رشد والے ایسے نہیں ہوتے۔
حدیث شریف میں ہے { مومن کی حالت پر تعجب ہے، اس کے لیے ہر الٰہی فیصلہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ اسے تکلیف پہنچی اس نے صبر و استقامت اختیار کی اور اسے نیکیاں ملیں۔ اسے راحت پہنچی، اس نے شکر کیا، اس پر بھی نیکیاں ملیں، یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999]
ہر وقت اٹھتے بیٹھے لیٹتے اللہ سے اپنی تکلیف کے دور ہونے کی التجائیں کرتا ہے۔ لیکن جہاں دعا قبول ہوئی تکلیف دور ہوئی اور ایسا ہو گیا جیسے کہ نہ اسے کبھی تکلیف پہنچی تھی نہ اس نے کبھی دعا کی تھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اور انہیں اپنے ایسے ہی گناہ اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ ہاں ایماندار، نیک اعمال، ہدایت و رشد والے ایسے نہیں ہوتے۔
حدیث شریف میں ہے { مومن کی حالت پر تعجب ہے، اس کے لیے ہر الٰہی فیصلہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ اسے تکلیف پہنچی اس نے صبر و استقامت اختیار کی اور اسے نیکیاں ملیں۔ اسے راحت پہنچی، اس نے شکر کیا، اس پر بھی نیکیاں ملیں، یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999]