ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 109

وَ اتَّبِعۡ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَ اصۡبِرۡ حَتّٰی یَحۡکُمَ اللّٰہُ ۚۖ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾٪
اور اس کی پیروی کر جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کر، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ En
اور (اے پیغمبر) تم کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
En
اور آپ اس کی اتباع کرتے رہیے جو کچھ آپ کے پاس وحی بھیجی جاتی ہے اور صبر کیجئے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے اور وه سب فیصلہ کرنے والوں میں اچھا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 109){وَ اتَّبِعْ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ …: } یعنی آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کی پیروی کریں، خود بھی عمل کریں اور تمام لوگوں کو اس کی دعوت بھی دیں، پھر اس کے نتیجے میں آنے والی بے پناہ مشکلات اور آزمائشوں پر صبر کریں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان فیصلہ فرما دے کہ دنیا میں غالب ہو کر کسے رہنا ہے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے اور وہ فیصلہ اس نے قرآن میں کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: «{ هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ [الصف: ۹] وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک برا مانیں۔ اور فرمایا: «{ وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ [آل عمران: ۱۳۹] اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو اگر تم مومن ہو۔ اب اگر مسلمان مغلوب ہیں تو ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شرط اگر تم مومن ہو پر غور کریں اور صحیح مومن بنیں، تاکہ خیر الحاکمین کا فیصلہ ان کے حق میں ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 اللہ تعالیٰ جس چیز کی وحی کرے، اسے مضبوطی سے پکڑ لیں، جس کا امر کرے، اسے عمل میں لائیں، جس سے روکے رک جائیں اور کسی چیز میں کوتاہی نہ کریں۔ اور وحی کی اطاعت و پیروی میں جو تکلیفیں آئیں، مخالفین کی طرف سے جو ایذائیں پہنچیں اور تبلیغ و دعوت کی راہ میں جن دشواریوں سے گزرنا پڑے، ان پر صبر کریں اور ثابت قدمی سے سب کا مقابلہ کریں۔ 19۔ 2 کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے، اس کی قدرت و طاقت بھی وسیع ہے اور اس کی رحمت بھی عام ہے اس لئے اس سے زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

109۔ آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کی اتباع کیجئے اور صبر کیجئے تا آنکہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے [117] اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
[117] یہ سورۃ مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی تھی جبکہ مسلمانوں پر کفار کے شدائد و مظالم کی انتہا ہو چکی تھی اور بعض جرأت مند صحابہ کی خواہش کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کو جہاد کرنے کی بھی اجازت نہیں ملی تھی لہٰذا اس سورۃ کے اختتام پر ایک دفعہ پھر آپ کو اور مسلمانوں کو ابھی سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرنے اور وحی کی اتباع کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے اور ساتھ ہی انھیں اچھے دنوں کی آمد کی خوشخبری بھی دی جا رہی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نافرمان کا اپنا نقصان ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خبردار کریں کہ جو میں لایا ہوں، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بلا شک و شبہ وہ نرا حق ہے جو اس کی اتباع کرے گا وہ اپنے نفع کو جمع کرے گا۔ اور جو اس سے بھٹک جائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ میں تم پر وکیل نہیں ہوں کہ تمہیں ایمان پر مجبور کروں۔ میں تو کہنے سننے والا ہوں۔ ہادی صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘۔
’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خود بھی میرے احکام اور وحی کا تابعدار رہ اور اسی پر مضبوطی سے جما رہ۔ لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کر۔ ان کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لے یہاں تک کہ خود اللہ تجھ میں اور ان میں فیصلہ کر دے۔ وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے جس کا کوئی فیصلہ عدل سے حکمت سے خالی نہیں ہوتا ‘۔
ابو یعلیٰ میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے کیسے ہو گئے؟ فرمایا: { مجھے سورۃ ھود، سورۃ الواقعہ، سورۃ عم، اور سورۃ کورت نے بوڑھا کر دیا } }۔ [مسند ابویعلیٰ107/1:سند منقطع:حدیث صحیح]‏‏‏‏۔
ترمذی کی اس حدیث میں سورۃ ھود، سورۃ الواقعہ، سورۂ والمرسلات، سورۃ النباء اور سورۃ الشمس کورت کا ذکر ہے [سنن ترمذي3297،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏۔
ایک روایت میں ہے، { سورۃ ھود اور اس جیسی اور سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا }۔ طبرانی میں ہے، { مجھے سورۃ ھود نے اور اس جیسی سورتوں مثلاً سورۃ الواقعہ، الحاقہ، اذالشمس کورت نے بوڑھا کر دیا ہے } [طبرانی کبیر:5804:سخت ضعیف]‏‏‏‏۔
ایک روایت میں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف دو سورتوں کا ذکر کرنا مروی ہے۔ سورۂ ھود اور سورۂ واقعہ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10091:سخت ضعیف]‏‏‏‏