ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 106

وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر اس چیز کو مت پکار جو نہ تجھے نفع دے اور نہ تجھے نقصان پہنچائے، پھر اگر تو نے ایسا کیا تو یقینا تو اس وقت ظالموں سے ہوگا۔ En
اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
En
اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ﻇالموں میں سے ہو جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 106) ➊ {وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَ لَا يَضُرُّكَ:} اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا زمین و آسمان کی ہر زندہ یا مردہ ہستی اور ہر جان دار یا بے جان چیز آگئی۔ یہ مطلب نہیں کہ پہلے تو کسی بزرگ یا نبی کی قبر کے بارے میں یہ غلط عقیدہ قائم کر لیا جائے کہ وہ نفع نقصان پہنچا سکتی ہے، پھر اسے سجدے کیے جائیں اور اس سے مرادیں طلب کی جائیں اور کہا جائے کہ ہم نفع نقصان کا اختیار رکھنے والوں ہی کو پکار رہے ہیں۔ اس آیت کی اس طرح تاویل کرنا اللہ کی کتاب سے کھیلنا اور اس کا مذاق اڑانا ہے۔ اس آیت کا صاف مطلب مشرکین کو سمجھانا ہے کہ ہر قسم کے نفع نقصان کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (فتح القدیر) اس سے اگلی آیت میں اس کی صراحت بھی آ رہی ہے۔ یہاں اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر اللہ کے پکارنے سے منع کیا گیا ہے، مگر درحقیقت پوری امت کو اس سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس شخص کو منع کرنا جس نے نہ وہ کام کیا ہو نہ کبھی کرنا ہو، اس کا مطلب دوسروں کو منع کرنے میں مبالغہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ [الزمر: ۶۵] اور بلاشبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔
➋ {فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ:} کیونکہ شرک کے برابر کوئی ظلم نہیں، جیسے فرمایا: «{ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ [لقمان: ۱۳] بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ ظلم کا مطلب ہے: {وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَيْرِ مَحَلِّهٖ } کہ کسی چیز کو بے موقع اور غلط جگہ استعمال کرنا۔ تو عبادت جو صرف خالق کا حق ہے کسی مخلوق کو دینے سے بڑا ظلم اور بے انصافی کیا ہو سکتی ہے۔ یہاں اگر تو نے ایسا کیا سے مراد ہے کہ اگر تو نے اس کو پکارا جو نہ تجھے نفع دے نہ نقصان تو ظالموں میں سے ہو گا۔ یہ مضمون قرآن مجید کی کئی آیات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی نہ کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا۔ دیکھیے سورۂ نمل (۶۲)، مائدہ (۷۶) اور سبا (۲۲) اور بھی بہت سی آیات ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 یعنی اگر اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبودوں کو آپ پکاریں گے جو کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں تو یہ ظلم کا ارتکاب ہوگا، عبادت چونکہ صرف اللہ کا حق ہے جس نے تمام کائنات بنائی ہے اور تمام اسباب حیات بھی وہی پیدا کرتا ہے تو اس مستحق عبادت ذات کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا نہایت ہی غلط ہے اس لئے شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں بھی خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن اصل مخاطب افراد انسانی اور امت محمدیہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

106۔ اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکاریں جو نہ آپ کو کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان اگر آپ ایسا کریں گے تو تب یقیناً ظالموں [114] سے ہو جائیں گے
[114] مشرک کی عام فہم تعریف، کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا:۔
انسان جب بھی کسی ہستی یا معبود کو پکارتا ہے تو اس سے اس کی اغراض دو ہی قسم کی ہو سکتی ہیں یا تو کسی ایسے کام کے لیے پکارے گا جس سے اسے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہو جیسے اولاد یا رزق کی طلب یا کسی ایسے کام کے لیے پکارے گا جس سے اس کی کوئی مصیبت یا تکلیف دور ہو سکتی ہو۔ اصطلاح عام میں ان دونوں اغراض کو جلب منفعت اور دفع مضرت اور آسان تر الفاظ میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کہا جاتا ہے اور ان دونوں طرح کے اغراض کے لیے اللہ کے سوا کسی کو پکارنا ہی اس کی عبادت ہوتی ہے اور اس مضمون پر کتاب و سنت میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ اور یہی بات سب سے بڑا شرک یا ظلم عظیم ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔