تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ عربی زبان میں جملہ فعلیہ کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے فعل، پھر فاعل اور اس کے بعد مفعول ہوتا ہے۔ اگر بعد والے لفظ کو پہلے لایا جائے تو اس سے کلام میں تخصیص یا حصر پیدا ہو جاتا ہے۔ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} اصل میں {”نَعْبُدُكَ“} (ہم تیری عبادت کرتے ہیں) تھا۔ مفعول ”کاف ضمیر“ کو {” نَعْبُدُ “} سے پہلے لایا گیا تو {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} ہو گیا، جس سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی ہم تیری عبادت کرتے ہیں، کسی اور کی نہیں کرتے۔ اس مفہوم کو ”ہم صرف تیری عبادت“ یا ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں“ کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ بعینہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کا مفہوم ہے، یعنی عبادت کے لائق اللہ تعالیٰ ہی ہے، دوسرا کوئی نہیں۔
➌ عبادت کا معنی کسی کو غیبی طاقتوں کا مالک سمجھ کر اس سے انتہائی درجے کی محبت کے ساتھ اس کے سامنے انتہائی درجے کی عاجزی، ذلت اور خوف ہے۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اسلام نے بندوں کو ایسی ہر غلامی سے آزادی دلا کر صرف ایک ذات پاک کا بندہ اور عبد بنا دیا جو انھیں پیدا کرنے والی اور ان کی پرورش کرنے والی ہے۔ عبادت صرف اس کی ہے، اس کے ساتھ کسی کو نہ شریک کرنا جائز ہے نہ اس کی محبت جیسی محبت یا اس کے خوف جیسا خوف کسی سے جائز ہے۔افسوس کہ بعض مسلمان اللہ کے گھر میں داخل ہوتے یا نکلتے وقت اتنے خوف زدہ اور لرزہ براندام نہیں ہوتے جتنے وہ کسی قبر پر یا کسی پیر کے پاس جاتے یا واپس آتے وقت ہوتے ہیں۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} کے عہد و اقرار کے بعد کسی دوسرے کی بندگی اللہ تعالیٰ سے سب سے بڑی غداری ہے، جسے وہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۶) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تین جگہ فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کی قدر اس طرح نہیں کی جیسے اس کی قدر کا حق ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۹۱)، حج (۷۴) اور زمر (۶۷)۔
➍ {وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ: ” نَسْتَعِيْنُ “ ”عَوْنٌ“} میں سے باب استفعال فعل مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے، جو اصل میں {”نَسْتَعْوِنُ“} تھا۔ اس میں بھی {” اِيَّاكَ “} پہلے آنے کی وجہ سے حصر ہے، یعنی ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، کسی دوسرے سے نہیں۔ یہاں سے بندے کی درخواست شروع ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق قبول ہو چکی۔
➎ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} کو پہلے اور {” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} کو بعد میں ذکر کرکے دعا کا سلیقہ سکھایا گیا ہے کہ درخواست سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا اور تمجید، پھر اپنی بندگی اور اپنے تعلق کا حوالہ پیش کرو، یعنی اپنے عمل کے وسیلے سے درخواست کرو۔ یہ وسیلہ حق ہے، جیسا کہ فرمایا: «رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ» [آل عمران: ۱۹۳] ”اے ہمارے رب! بے شک ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا، جو ایمان کے لیے آواز دے رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آئو تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! پس ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ فوت کر۔“ صحیح بخاری (۳۴۶۵) میں غار میں پھنسنے والے تین آدمیوں کا قصہ بھی اس کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص سے کیے ہوئے اعمال کے وسیلے سے دعا قبول ہوتی ہے۔ البتہ کسی شخص کا نام لے کر اس کی ذات یا اس کی حرمت وغیرہ کے وسیلے سے دعا کرنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں، مثلاً یہ کہنا کہ یا اللہ! فلاں کے وسیلے یا طفیل یا واسطے سے یا بحرمت فلاں میری دعا قبول کر۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۷) «فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ» کی تفسیر۔
➏ { ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} کے بعد {” وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} لانے میں یہ سبق بھی ہے کہ آدمی یقین رکھے کہ وہ کوئی بھی نیکی اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں کر سکتا اور مکمل طور پر اللہ کے سامنے بے بس اور بے اختیار ہونے کا عقیدہ رکھے اور اس کا اظہار و اقرار بھی کرے۔ یعنی ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تیری عبادت میں اور اپنے تمام کاموں میں تیری ہی مدد مانگتے ہیں، تیری مدد کے بغیر نہ ہم تیری عبادت کر سکتے ہیں نہ کچھ اور۔ اس لفظ میں اللہ پر توکل اور اپنے تمام کام اس کے سپرد کرنے کی اعلیٰ ترین تعلیم دی گئی ہے۔ بعض سلف نے فرمایا، فاتحہ قرآن کا خلاصہ ہے اور «اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» فاتحہ کا خلاصہ ہے۔ کیونکہ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} کہنے سے انسان شرک سے بری ہو جاتا ہے اور {” وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} کہنے سے وہ اپنی قوت و طاقت اور اختیار سے خالی ہو کر صرف اللہ پر توکل و اعتماد کا اقرار و اظہار کرتا ہے۔
➐ اس استعانت سے مراد ان کاموں میں مدد طلب کرنا ہے جن کا اختیار اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے پاس رکھا ہے، کسی مخلوق کو ان کا اختیار نہیں دیا، مثلاً معالج دوا دے سکتا ہے مگر شفا صرف اللہ کے پاس ہے۔ کوئی صاحب خیر کچھ روپے پیسے دے سکتا ہے مگر غنی یا فقیر کر دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ طبیب علاج کر سکتا ہے مگر اولاد سے نوازنا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فوج، آدمیوں اور اسلحے سے ایک دوسرے کی مدد ہو سکتی ہے مگر فتح و شکست اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ غرض دنیا کے ظاہری اسباب و وسائل جو انسانوں کو عطا کیے گئے ہیں ان میں ایک دوسرے سے مدد مانگنا بھی جائز ہے اور ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی لازم ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى» [المائدۃ: ۲] ”نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔“ افسوس کہ بعض لوگ ان ہستیوں کو مدد کے لیے پکارتے ہیں جو سنتی ہی نہیں، نہ پاس موجود ہوتی ہیں اور ایسی چیزوں کی مدد مانگتے ہیں جو اگر وہ زندہ ہوں یا سن رہی ہوں تب بھی ان کے اختیار میں نہیں۔ کتنا ظلم ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں {” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} (صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں) کا اقرار کرتے ہیں، پھر غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں، مثلاً {”يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اَغِثْنِيْ“} (اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجیے) اے مولا علی، اے شیر خدا! میری کشتی پار لگا دینا، المدد یا غوث اعظم، مدد کن یا معین الدین چشتی۔ غرض صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کے عہد و اقرار کے بعد غیروں کو رب تعالیٰ کا شریک بنا کر انھیں رب کے اختیارات کا مالک سمجھتے ہیں اور ان سے استغاثہ و استعانت کرتے ہیں۔
➑ یہاں ایک سوال ہے کہ{” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “} سے آخر فاتحہ تک دعا کرنے والا جمع کے صیغے سے دعا کرتا ہے، جب کہ دعا کرنے والا ایک ہے، اس لیے واحد کا صیغہ ہونا چاہیے تھا، اگر جمع کا لفظ تعظیم کے لیے مانا جائے تو یہ دعا کے مناسب نہیں ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ بندہ اپنی انتہائی تواضع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عالی بارگاہ میں اپنی درخواست اکیلا پیش کرنے کی جرأت نہیں کرتا، بلکہ تمام عبادت کرنے والے جن و انس اور فرشتوں کے ساتھ مل کر پیش کرتا ہے کہ ہم سب (جن میں تیرا یہ عاجز بندہ بھی ہے) تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔
بعض اہل علم نے یہ حکمت بیان فرمائی کہ جمع کے صیغے میں ایک لطیف تواضع پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ واحد کے صیغے میں اپنی کچھ بڑائی کا اظہار ہوتا ہے جو جمع کے صیغے میں نہیں ہے۔ (ابن کثیر) بعض مفسرین نے اس میں یہ حکمت بیان فرمائی کہ ہر مومن دوسرے مومنوں کے ساتھ ایک جسم کی مانند ہے اور ہر مومن تمام مومنوں کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے وہ اکیلا ہی تمام مسلمانوں کی طرف سے عرض کرتا ہے کہ ہم سب صرف تیری تعریف کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَكَافَأُ دِمَاءُ هُمْ وَ يَسْعٰی بِذِمَّتِهِمْ اَدْنَاهُمْ وَ هُمْ يَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاهُمْ] ”ایمان والے لوگ، ان کے خون آپس میں برابر ہوتے ہیں، ان کا سب سے معمولی آدمی بھی ان کے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اپنے سوا سب کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہوتے ہیں۔“ [أبوداوٗد، الدیات، باب أیقاد المسلم من الکافر؟: ۴۵۳۰، وقال الألبانی حسن صحیح]
➒ {” اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ عبادت و استعانت کی بہترین صورت اجتماعی عبادت و استعانت ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی جامع صورت نماز کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا: «وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ» [البقرۃ: ۴۳] ”اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“
➓ {” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “} میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس کام کے لیے مدد مانگتے ہیں، تاکہ وہ عام رہے، مقصد یہ ہے کہ ہر کام میں تیری مدد مانگتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
امداد کن امداد کن،
از بند غم آزاد کن
در دین و دنیا شاد کن
یا شیخ عبد القادرا!!
اب اگر کوئی شخص یہ شعر یا وظیفہ اپنی جگہ پر پڑھے یا شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی قبر پر جا کر پڑھے تو یہ شرک ہو گا۔ کیونکہ اس میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ یہ فوت شدہ بزرگ میری پکار کو سن بھی رہے ہیں پھر میری مشکل کشائی اور حاجت براری کا اختیار یا تصرف بھی رکھتے ہیں۔
دعا یا پکار کو اللہ تعالیٰ نے عبادت ہی قرار دیا ہے [ديكهئے 40: 60] اور احادیث صحیحہ میں سے ایک کے الفاظ یہ ہیں۔ «الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ» (دعا ہی اصل عبادت ہے) اور دوسری یہ کہ: «الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ» (دعا ہی عبادت کا مغز ہے) ہاں اگر کسی حاضر شخص سے ایسے کام میں مدد چاہی جائے جو اس کے اختیار میں ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ ایسی امداد و تعاون کے بغیر تو دنیا میں کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا۔ اور جو کام اللہ کے سوا کسی دوسرے کے بس میں نہیں۔ مثلاً اولاد عطا کرنا، رزق میں کمی بیشی کرنا، گناہ بخشنا، عذاب سے نجات دینا وغیرہ وغیرہ ایسے کاموں کے لئے کسی زندہ موجود شخص سے بھی مدد چاہنا شرک ہو گا۔ مگر کسی خطرہ مثلاً سانپ یا دشمن سے بچنے کے لئے مدد حاصل کرنا اور تعاون چاہنا درست ہو گا۔
اس آیت میں ﴿نَعْبُدُ﴾ اور ﴿نَسْتَعِيْنُ﴾ سے پہلے ﴿اِيَّاكَ﴾ کا لفظ لایا گیا ہے جو حصر کا بھی فائدہ دے رہا ہے اور تاکید کا بھی اور اس کا معنی یوں بنتا ہے کہ ہم صرف اور صرف تیری ہی عبادت کرتے اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ تیرے سوا نہ کسی کی عبادت کرتے ہیں یا کریں گے اور نہ ہی کسی سے مدد مانگتے ہیں اور نہ مانگیں گے۔ گویا شرک کی جملہ اقسام کے استیصال کے لیے یہ اکیلی آیت ہی کافی ہے۔
نیز اس آیت میں جمع متکلم کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ واحد متکلم کے نہیں ہوئے۔ کیونکہ اسلام نماز با جماعت کی بھی تاکید کرتا ہے اور معاشرتی اجتماعی زندگی اور نظم و ضبط کی بھی۔ علاوہ ازیں ﴿نَعْبُدُ﴾ کے فوراً بعد ﴿نَسْتَعِيْنُ﴾ کا لفظ لایا گیا تاکہ انسان کو اپنی عبادت پر غرور نہ پیدا ہو جائے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ اسے عبادت کی توفیق بھی اللہ ہی کی مدد کی بنا پر میسر آئی ہے۔
[12] علاوہ ازیں چھٹی آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ سوال کرنے یا دعا مانگنے یا مدد چاہنے سے پہلے وسیلہ ضروری ہے اور اس آیت میں وہ وسیلہ عبادت ہے۔ جس کا ذکر پہلے آ گیا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث اس مضمون میں پوری وضاحت کر رہی ہے:
فضالہ بن عبیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے سنا، جس نے نہ تو اللہ کی حمد بیان کی تھی اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے جلدی کی۔ پھر اسے بلایا اور فرمایا: تم میں سے کوئی شخص بھی جب دعا کرے تو اپنے پروردگار کی تعریف اور ثنا سے شروع کرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔ پھر اس کے بعد جو چاہے دعا کرے۔ [احمد۔ ترمذي۔ نسائي۔ ابو داؤد۔ بحواله سبل السلام ج 1ص 192 باب صفة الصلٰوة حديث نمبر 48]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لغت میں عبادت کہتے ہیں ذلت اور پستی کو طریق معبد اس راستے کو کہتے ہیں جو ذلیل ہو۔ اسی طرح «بَعِيرٌ مُعَبَّدٌ» اس اونٹ کو کہتے ہیں جو بہت دبا اور جھکا ہوا ہو اور شریعت میں عبادت نام ہے محبت، خشوع، خضوع اور خوف کے مجموعے کا۔ لفظ «اِیَّاکَ» کو جو مفعول ہے پہلے لائے اور پھر اسی کو دہرایا تاکہ اس کی اہمیت ہو جائے اور عبادت اور طلب مدد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہو جائے تو اس جملہ کے معنی یہ ہوئے کہ ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور نہ کریں گے اور تیرے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اور نہ کریں گے۔ کامل اطاعت اور پورے دین کا حاصل صرف یہی دو چیزیں ہیں۔
جیسے فرمایا: «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [11-هود:123] الخ یعنی ’اللہ ہی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ کرو تمہارا رب تمہارے اعمال سے غافل نہیں‘۔
فرمایا: «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» ۲؎ [67-الملك:29] الخ یعنی ’کہہ دے کہ وہی رحمان ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور اسی پر ہم نے توکل کیا‘۔
فرمایا: «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۳؎ [73-المزمل:9] الخ یعنی ’مشرق مغرب کا رب وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ‘۔
یہی مضمون اس آیۃ کریمہ میں ہے اس سے پہلے کی آیات میں تو خطاب نہ تھا لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا گیا ہے جو نہایت لطافت اور مناسبت رکھتا ہے اس لیے کہ جب بندے نے اللہ تعالیٰ کی صفت و ثنا بیان کی تو قرب الہٰی میں حاضر ہو گیا اللہ جل جلالہ کے حضور میں پہنچ گیا، اب اس مالک کو خطاب کر کے اپنی ذلت اور مسکینی کا اظہار کرنے لگا اور کہنے لگا کہ ”الہٰ“ ہم تو تیرے ذلیل غلام ہیں اور اپنے تمام کاموں میں تیرے ہی محتاج ہیں۔ اس آیت میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اس سے پہلے کے تمام جملوں میں خبر تھی۔
جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جو نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:756]
صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان (نصف نصف) بانٹ لیا ہے اس کا آدھا حصہ میرا ہے اور آدھا حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ طلب کرے۔ جب بندہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہتا ہے، تو اللہ فرماتا ہے «حَمِدَنِي عَبْدِي» میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔ جب کہتا ہے «الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ» ، اللہ فرماتا ہے «أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي» میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب وہ کہتا ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ، اللہ فرماتا ہے «مَجَّدَنِي عَبْدِي» میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ جب وہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ» یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔ پھر وہ آخر سورت تک پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ» یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرا بندہ جو مجھ سے مانگے اس کے لیے ہے“} ۲؎۔ [صحیح مسلم:395]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا حکم ہے کہ تم سب اسی کی خالص عبادت کرو اور اپنے تمام کاموں میں اسی سے مدد مانگو ۲؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:20/1]
«إِيَّاكَ نَعْبُدُ» کو پہلے لانا اس لیے ہے کہ اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی ہے اور مدد کرنا یہ عبادت کا وسیلہ اور اہتمام اور اس پر پختگی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ زیادہ اہمیت والی چیز کو مقدم کیا جاتا ہے اور اس سے کمتر کو اس کے بعد لایا جاتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بعض نے کہا ہے کہ یہ تعظیم کے لیے ہے گویا کہ بندہ جب عبادت میں داخل ہوتا ہے تو اسی کو کہا جاتا ہے کہ تو شریف ہے اور تیری عزت ہمارے دربار میں بہت زیادہ ہے تو اب «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کہا یعنی اپنے تئیں عزت سے یاد کر۔ ہاں اگر عبادت سے الگ ہو تو اس وقت ہم نہ کہے چاہے ہزاروں لاکھوں میں ہو کیونکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے محتاج اور اس کے دربار کے فقیر ہیں۔
بعض کا قول ہے کہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» میں جو تواضع اور عاجزی ہے وہ «إِيَّاكَ عَبَدنَا» میں نہیں اس لیے کہ اس میں اپنے نفس کی بڑائی اور اپنی عبادت کی اہلیت پائی جاتی ہے حالانکہ کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی پوری عبادت اور جیسی چاہے ویسی ثنا و صفت بیان کرنے پر قدرت ہی نہیں رکھتا۔
کسی شاعر کا قول ہے (ترجمہ) کہ مجھے اس کا غلام کہہ کر ہی پکارو کیونکہ میرا سب سے اچھا نام یہی ہے۔
فرمایا: «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ» ۱؎ [18-الكهف:1] الخ،
فرمایا: «وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّـهِ يَدْعُوهُ» ۲؎ [72-الجن:19] الخ،
فرمایا: «سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا» ۳؎ [17-الإسراء:1] الخ،
ساتھ ہی قرآن پاک نے یہ تعلیم دی کہ اے نبی جس وقت تمہارا دل مخالفین کے جھٹلانے کی وجہ سے تنگ ہو تو تم میری عبادت میں مشغول ہو جاؤ۔
فرمان ہے: «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۴؎ [15-الحجر:97-98-99] یعنی ’ہم جانتے ہیں کہ مخالفین کی باتیں تیرا دل دکھاتی ہیں تو ایسے وقت اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کر اور سجدہ کر اور موت کے وقت تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ‘۔
رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے نقل کیا ہے کہ عبودیت کا مقام رسالت کے مقام سے افضل ہے کیونکہ عبادت کا تعلق مخلوق سے خالق کی طرف ہوتا اور رسالت کا تعلق حق سے خلق کی طرف ہوتا ہے اور اس دلیل سے بھی کہ عبد کی کل اصلاح کے کاموں کا متولی خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہوتا ہے اور رسول اپنی امت کی مصلحتوں کا والی ہوتا ہے۔
لیکن یہ قول غلط ہے اور اس کی یہ دونوں دلیلیں بھی بودی اور لاحاصل ہیں۔ افسوس رازی نے نہ تو اس کو ضعیف کہا نہ اسے رد کیا۔
بعض صوفیوں کا قول ہے کہ عبادت یا تو ثواب حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے یا عذاب دفع کرنے کے لیے، وہ کہتے ہیں یہ کوئی فائدے کی بات نہیں اس لیے کہ اس وقت مقصود خود اپنی مراد کا حاصل کرنا ٹھہرا۔ اس کی تکالیف کے لیے آمادگی کرنا یہ بھی ضعیف ہے۔ اعلیٰ مرتبہ عبادت یہ ہے کہ انسان اس مقدس ذات کی جو تمام کامل صفتوں سے موصوف ہے محض اس کی ذات کے لیے عبادت کرے اور مقصود کچھ نہ ہو۔ اسی لیے نمازی کی نیت نہ نماز پڑھنے کی ہوتی ہے اگر وہ ثواب پانے اور عذاب سے بچنے کے لیے ہو تو باطل ہے۔
دوسرا گروہ ان کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ عبادت کا اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا کچھ اس کے خلاف نہیں کہ ثواب کی طلب اور عذاب کا بچاؤ مطلوب نہ ہو اس کی دلیل یہ ہے کہ {ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں نہ تو آپ جیسا پڑھنا جانتا ہوں نہ معاذ جیسا، میں تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے نجات چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کے قریب قریب ہم بھی پڑھتے ہیں“} ۵؎۔ [سنن ابوداود:792،قال الشيخ الألباني:صحيح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {إياك نعبد وإياك نستعين}؛ أي: نخصك وحدك بالعبادة والاستعانة، لأن تقديم المعمول يفيد الحصر وهو إثبات الحكم للمذكور ونفيه عمّا عداه؛ فكأنه يقول: نعبدك، ولا نعبد غيرك، ونستعين بك، ولا نستعين بغيرك، وتقديم العبادة على الاستعانة من باب تقديم العام على الخاص، واهتماماً بتقديم حقه تعالى على حق عبده.
والعبادة: اسم جامع لِمَا يحبه الله ويرضاه من الأعمال والأقوال الظاهرة والباطنة، والاستعانة هي: الاعتماد على الله تعالى في جلب المنافع ودفع المضار، مع الثقة به في تحصيل ذلك.
والقيام بعبادة الله والاستعانة به هو الوسيلة للسعادة الأبدية والنجاة من جميع الشرور، فلا سبيل إلى النجاة إلا بالقيام بهما، وإنما تكون العبادة عبادةً إذا كانت مأخوذة عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مقصوداً بها وجه الله، فبهذين الأمرين تكون عبادة، وذكر الاستعانة بعد العبادة مع دخولها فيها؛ لاحتياج العبد في جميع عباداته إلى الاستعانة بالله تعالى؛ فإنه إن لم يعنه الله لم يحصل له ما يريده من فعل الأوامر واجتناب النواهي.