ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفاتحة (1) — آیت 4

مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾
بدلے کے دن کا مالک ہے۔ En
انصاف کے دن کا حاکم
En
بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) ➊ {مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ: الدِّيْنِ دَانَ يَدِيْنُ} کا مصدر ہے، بدلہ دینا، جزا دینا۔ رحمن و رحیم کے بعد جزا کے دن کا مالک ہونے کی صفت بیان فرمائی۔ ایک قراء ت «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ‏‏‏‏ ہے یعنی روزِ جزا کا مالک اور دوسری {مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ } ہے، یعنی روز جزا کا بادشاہ۔ قرآن مجید کے رسم الخط میں { مٰلِكِ } لکھا ہے، اسے { مَالِكِ } اور {مَلِكِ} دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے اور دونوں قراء تیں متواتر طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک بھی ہے اور بادشاہ بھی۔ { الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ } کے ساتھ قیامت کے دن کے مالک اور بادشاہ ہونے کی مناسبت یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی بہت رحم کرنے والا ہوتا ہے مگر اس کی ملکیت میں کچھ نہیں ہوتا، اس لیے وہ چاہتے ہوئے بھی رحم نہیں کر سکتا، پھر کوئی شخص بہت سی ملکیت کا مالک ہوتا ہے مگر اس کا بادشاہ کوئی اور ہوتا ہے، وہ مالک ہوتے ہوئے بھی پورا اختیار نہیں رکھتا۔ {يَوْمِ الدِّيْنِ } کے معنی یوم جزا کے ہیں۔ اس دنیا میں بھی مکافات یعنی اعمال کی جزا کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مگر اس جزا کا مکمل ظہور چونکہ قیامت کے دن ہو گا اس لیے قیامت کے دن کو خاص طور پر {يَوْمِ الدِّيْنِ } (بدلے کا دن) کہا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس دن کے {مَالِك} اور {مَلِك} (بادشاہ) ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس روز ظاہری طور پر بھی مالکیت اور ملوکیت کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا، فرمایا: «يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ» ‏‏‏‏ [الانفطار: ۱۹] جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کی مالک نہیں ہو گی اور اس دن حکم صرف اللہ کا ہو گا۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [المؤمن: ۱۶] آج بادشاہی کس کی ہے؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، دبدبے والا ہے۔ اس دن مالک بھی اللہ تعالیٰ ہو گا، بادشاہ بھی وہی ہو گا، اور حکم بھی صرف اسی کا چلے گا۔ صفت رحمت اور بدلے کے دن کی ملکیت میں مناسبت اس حدیث سے واضح ہوتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں، جن میں سے اس نے ایک رحمت جن و انس، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل فرمائی ہے، اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانویں رحمتیں مؤخر کر رکھی ہیں، جن کے ساتھ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ [مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی…: 2752/19۔ بخاری: ۶۰۰۰، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]
➋ تقسیم صلاۃ والی حدیث قدسی کے مطابق بندہ جب «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ‏‏‏‏ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(1): [مَجَّدَنِيْ عَبْدِيْ] میرے بندے نے میری تمجید (بزرگی بیان) کی۔ (2)ایک روایت کے مطابق فرماتا ہے: [فَوَّضَ اِلَيَّ عَبْدِيْ] میرے بندے نے اپنا سب کچھ میرے سپرد کر دیا۔ [مسلم، الصلوۃ، باب وجوب قراءۃ الفاتحۃ …: ۳۹۵] قرآن مجید میں تمجید الٰہی اور تفویض و توکل پر مشتمل تمام آیات { مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ } کی تفصیل ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

1 دنیا میں بھی اگرچہ کیئے کی سزا کا سلسلہ ایک حد تک جاری رہتا ہے تاہم اس کا مکمل ظہور آخرت میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کے مطابق مکمل جزا یا سزا دے گا۔ اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا اللہ تعالیٰ اس روز فرمائے گا آج کس کی بادشاہی ہے؟ پھر وہی جواب دے گا صرف ایک اللہ غالب کے لیے اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے اختیار نہیں رکھے گی سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا، یہ ہوگا جزا کا دن۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ روز جزا [8] و سزا کا مالک [9] ہے
[8] دین کے مختلف معانی:۔
دین کا لفظ قرآن میں مندرجہ ذیل چار معنوں میں استعمال ہوا ہے: (1) اللہ تعالیٰ کی مکمل حاکمیت اور اسی کا دوسرا پہلو یا لازمی نتیجہ ہے۔
(2) انسان کی مکمل عبودیت جیسے ارشاد باری ہے:
﴿فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ [39: 2۔ 3]
لہٰذا خالصتاً اسی کی عبادت کرو۔ سن لو مکمل حاکمیت خالصتاً اللہ ہی کے لئے ہے“ ان دونوں آیات میں دین کا لفظ مذکورہ بالا دونوں معنی دے رہا ہے۔
(3) قانون سزا و جزاء یا تعزیرات جیسے ارشاد باری ہے:
﴿ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ [76: 12]
’اس (سیدنا یوسفؑ) کی شان کے لائق نہ تھا۔ ممکن نہ تھا کہ وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو رکھ سکتا‘
(4) قانون سزا و جزاء کو نافذ کرنے کی قوت، جیسے ارشاد باری ہے:
﴿فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ [56: 86۔ 87]
’پھر اگر تم سچے ہو اور قانون کی گرفت سے آزاد ہو تو (جب جان لبوں پر آ جاتی ہے) اسے لوٹا کیوں نہیں لیتے؟‘
اور اس آیت میں دین کا لفظ مندرجہ بالا چاروں معنی دے رہا ہے۔
[9] پہلی آیات میں اللہ کی معرفت کا ذکر تھا۔ اس آیت میں روز آخرت پر ایمان اور روز آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عملی اقتدار و اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کے اچھے اعمال کا اچھا اور برے اعمال کا برا بدلہ دے گا۔ وہ ایسا بدلہ دینے کی اور اپنے اس فیصلہ کو نافذ کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ اعمال کے بدلہ کے سلسلہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے بہت سے ضابطے اور قوانین ہیں۔ جن کا ذکر قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر مذکور ہے۔ مثلاً یہ کہ نیکیوں کا بدلہ اللہ جسے چاہے گا بہت زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ مگر برائی کا بدلہ اتنا ہی دے گا جتنی اس نے برائی کی ہو گی۔ یا یہ کہ ایک کے جرم کی سزا دوسرے کو نہیں دی جائے گی۔ یا یہ کہ کوئی مجرم کسی صورت میں سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ وغیرہ وغیرہ اور ان سب چیزوں کا ذکر قرآن میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حقیقی وارث مالک کون ہے؟ ٭٭
بعض قاریوں نے «مَلِكِ» پڑھا ہے اور باقی سب نے «مَالِكِ» اور دونوں قراتیں صحیح اور متواتر ہیں اور سات قراتوں میں سے ہیں اور «مَالِكِ» کے «لام» کے زیر اور اس کے سکون کے ساتھ۔ اور «مَلِيكٌ» اور «مَلَكِي» بھی پڑھا گیا ہے پہلے کی دونوں قراتیں معانی کی رو ترجیح ہیں اور دونوں صحیح ہیں اور اچھی بھی۔
زمخشری نے «مَلِكِ» کو ترجیح دی ہے اس لیے کہ حرمین والوں کی یہ قرأت ہے۔ اور قرآن میں بھی «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» ۱؎ [40-غافر:16]‏‏‏‏ اور «قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ» ۲؎ [6-الأنعام:73]‏‏‏‏ ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی حکایت بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے «مَلِكِ» پڑھا اس بنا پر کہ «فِعْلٌ» اور «فَاعِلٌ» اور «مَفْعُولٌ» آتا ہے لیکن یہ شاذ اور بےحد غریب ہے۔
ابوبکر بن داؤد رحمہ اللہ نے اس بارے میں ایک غریب روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تینوں خلفاء اور معاویہ رضی اللہ عنہم اور ان کے لڑکے «مَالِكِ» پڑھتے تھے۔
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے مروان نے «مَالِكِ» پڑھا۔ میں کہتا ہوں مروان کو اپنی اس قرأت کی صحت کا علم تھا راوی راوی حدیث ابن شہاب رحمہ اللہ کو علم نہ تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن مردویہ نے کئی سندوں سے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «مَالِكِ» پڑھتے تھے۔ «مَالِكِ» کا لفظ «مَلِكِ» سے ماخوذ ہے جیسے کہ قرآن میں ہے: «إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ» ۱؎ [19-مريم:40]‏‏‏‏ الخ یعنی ’زمین اور اس کے اوپر کی تمام مخلوق کے مالک ہم ہی ہیں اور ہماری ہی طرف سب لوٹا کر لائے جائیں گے‘۔
اور فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ * مَلِكِ النَّاسِ» ۲؎ [114-الناس:1-2]‏‏‏‏ الخ یعنی ’کہہ کہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب اور لوگوں کے مالک کی‘۔ اور «مَلِكِ» کا لفظ «مُلْكُ» سے ماخوذ ہے،
جیسے فرمایا: «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۳؎ [40-غافر:16]‏‏‏‏ الخ یعنی ’آج ملک کس کا ہے صرف اللہ واحد غلبہ والے کا‘۔
اور فرمایا: «قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ» ۱؎ [6-الأنعام:73]‏‏‏‏ الخ یعنی ’اسی کا فرمان ہے اور اسی کا سب ملک ہے‘۔
اور فرمایا: «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» ۲؎ [25-الفرقان:26]‏‏‏‏ یعنی ’آج ملک رحمن ہی کا ہے اور آج کا دن کافروں پر بہت سخت ہے‘۔
اس فرمان میں قیامت کے دن ساتھ ملکیت کی تخصیص کرنے سے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے، اس لیے کہ پہلے اپنا وصف «رَبُّ الْعَالَمِينَ» ہونا بیان کر چکا ہے دنیا اور آخرت دونوں کو شامل ہے۔ قیامت کے دن کے ساتھ اس کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس دن تو کوئی ملکیت کا دعویدار بھی نہ ہو گا۔ بلکہ بغیر اس حقیقی مالک کی اجازت کے زبان تک نہ ہلا سکے گا۔
جیسے فرمایا: «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۳؎ [78-النبأ:38]‏‏‏‏ یعنی ’جس دن روح القدس اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کوئی کلام نہ کر سکے گا۔ یہاں تک کہ رحمن اسے اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے گا‘۔
دوسری جگہ ارشاد ہے: «وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَـٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا» ۴؎ [20-طه:108]‏‏‏‏ الخ یعنی ’سب آوازیں رحمن کے سامنے پست ہوں گی اور گنگناہٹ کے سوا کچھ نہ سنائی دے گا‘،
اور فرمایا: «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» ۵؎ [11-هود:105]‏‏‏‏ یعنی ’جب قیامت آئے گی اس دن بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کی اجازت کے کوئی شخص نہ بول سکے گا۔ بعض ان میں سے بدبخت ہوں گے اور بعض سعادت مند‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دن اس کی بادشاہت میں اس کے سوا کوئی بادشاہ نہ ہو گا جیسے کہ دنیا میں مجازاً تھے۔ «يَوْمِ الدِّينِ» سے مراد مخلوق کے حساب کا یعنی قیامت کا دن ہے جس دن تمام بھلے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ہاں اگر رب کسی برائی سے درگزر کر لے یہ اس کا اختیاری امر ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین اور سلف صالحین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔
بعض سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرنے پر قادر ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے۔
لیکن بظاہر ان دونوں اقوال میں کوئی تضاد نہیں، ہر ایک قول کا قائل دوسرے کے قول کی تصدیق کرتا ہے ہاں پہلا قول مطلب پر زیادہ دلالت کرتا ہے۔
جیسے کہ فرمان ہے: «لْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26]‏‏‏‏ الخ اور دوسرا قول اس آیت کے مشابہ ہے۔
جیسا کہ فرمایا: «وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ» ۲؎ [6-الأنعام:73]‏‏‏‏ الخ یعنی ’جس دن کہے گا ہو جا بس اسی وقت ہو جائے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حقیقی بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسے فرمایا: «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ» ۱؎ [59-الحشر:23]‏‏‏‏
صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدترین نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے حقیقی بادشاہ اللہ کے سوا کوئی نہیں} ۲؎۔ [صحیح بخاری:6205]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے کہ {اللہ تعالیٰ زمین کو قبضہ میں لے لے گا اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں کہاں گئے زمین کے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے} ۳؎ [صحیح بخاری:4812]‏‏‏‏
قرآن عظیم میں ہے «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» الخ یعنی ’کس کی ہے آج بادشاہی؟ فقط اللہ اکیلے غلبہ والے کی‘ اور کسی کو «مَلِكِ» کہہ دینا یہ صرف مجازاً ہے۔
جیسے کہ قرآن میں طالوت کو «مَلِكِ» کہا گیا اور «وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ» ۴؎ [18-الكهف:79]‏‏‏‏ کا لفظ آیا۔ اور بخاری مسلم میں «مُلُوكِ» کا لفظ آیا ہے ۵؎ [صحیح مسلم:1912]‏‏‏‏
اور قرآن کی آیت میں «إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا» ۶؎ [5-المائدة:20]‏‏‏‏ الخ یعنی ’تم میں انبیاء کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا‘، آیا ہے۔ دین کے معنی بدلے جزا اور حساب کے ہیں۔
جیسے قرآن پاک میں ہے: «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّـهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ» ۷؎ [24-النور:25]‏‏‏‏ الخ یعنی ’اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ جان لیں گے‘۔
اور جگہ ہے: «أَإِنَّا لَمَدِينُونَ» ۸؎ [37-الصافات:53]‏‏‏‏ الخ یعنی ’کیا ہم کو بدلہ دیا جائے گا؟‘ حدیث میں ہے {دانا وہ ہے جو اپنے نفس سے خود حساب لے اور موت کے بعد کام آنے والے اعمال کرے} ۹؎ [سنن ترمذي:2459،قال الشيخ الألباني:ضعيف]‏‏‏‏
جیسے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تم خود اپنی جانوں سے حساب لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا خود وزن کر لو اس سے پہلے کہ وہ ترازو میں رکھے جائیں اور اس بڑی پیشی کے لیے تیار ہو جاؤ جب تم اس اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے جس سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں جیسے خود رب عالم نے فرما دیا: «يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ» ۱۰؎ [69-الحاقة:18]‏‏‏‏ یعنی ’جس دن تم پیش کئے جاؤ گے کوئی چھپی ڈھکی بات چھپے گی نہیں‘۔