ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفاتحة (1) — آیت 3

الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾
بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ En
بڑا مہربان نہایت رحم والا
En
بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ { الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ:} یہ دوسری اور تیسری صفت ہے۔ جب سارے جہانوں کی ربوبیت کا ذکر ہوا تو ساتھ ہی اللہ کی بے حد و حساب رحمت کا ذکر ہوا، کیونکہ رحمت کے بغیر ربوبیت ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ دونوں رحم میں سے مبالغے کے صیغے ہیں۔ معنی دونوں کا بہت زیادہ رحم والا ہے، مگر اس پر اتفاق ہے کہ { الرَّحْمٰنِ } میں مبالغہ زیادہ ہے، کیونکہ اس کے حروف { الرَّحِيْمِ } سے زیادہ ہیں (اور حروف کی زیادتی سے معنی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے) اور اس لیے بھی کہ لفظ اللہ کی طرح رحمان بھی صرف باری تعالیٰ کے لیے بولا جاتا ہے، جب کہ رحیم بعض اوقات مخلوق پر بھی آ جاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۱۲۸] مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں رحم میں مبالغے کا اظہار کرنے کے لیے دو لفظ کیوں ذکر فرمائے؟ بعض اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ تاکید کے لیے ہے، مگر اکثر علماء ایک مادے (رحم) سے مشتق ہونے کے باوجود ان دونوں کے درمیان فرق مانتے ہیں۔ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ { الرَّحْمٰنِ } کا معنی بڑی بڑی نعمتیں عطا کرنے والا اور { الرَّحِيْمِ } کا معنی دقیق اور باریک نعمتوں سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمان وہ ہے جس کی رحمت سب کے لیے عام ہے، مسلم ہوں یا کافر، جب کہ رحیم وہ ہے جو خاص طور پر مومنوں کو رحمت سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمان وہ ہے جس کی رحمت دنیا میں مسلم و کافر سب کے لیے اور آخرت میں صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور رحیم وہ جو آخرت میں خاص مسلمانوں پر رحم کرنے والا ہے۔ مگر ان تینوں اقوال کی پختہ دلیل، جس پر اعتراض نہ ہو، مجھے معلوم نہیں ہو سکی۔ مفسر قاسمی نے شیخ محمد عبدہ مصری رحمہ اللہ سے ایک مدلل و مضبوط فرق نقل کیا ہے، میں اسے تھوڑی سی وضاحت اور اضافے سے نقل کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ رحمان { فَعْلَانُ} کے وزن پر ہے جو معنی کی کثرت پر دلالت کرتا ہے، مثلاً {عَطْشَانُ} بہت زیادہ پیاسا، {غَرْثَانُ} بہت زیادہ بھوکا اور {غَضْبَانُ} غصے سے بھرا ہوا۔ اس وزن میں معنی کی کثرت تو ہوتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے، بلکہ وہ ختم بھی ہو سکتی ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام طور سے لوٹے تو {غَضْبَانُ} (غصے سے بھرے ہوئے) تھے، مگر ہارون علیہ السلام کا عذر سن کر غصہ ختم ہو گیا، بلکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ گویا رحمان کا معنی وہ ذات ہے جس میں بہت ہی زیادہ رحمت ہے، جو بے حد و بے حساب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا فرمائی تو اس کتاب میں لکھ دیا جو اس کے پاس عرش پر ہے کہ بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ [بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «ویحذرکم اللہ نفسہ» ‏‏‏‏: ۷۴۰۴، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] { فَعِيْلٌ} کا وزن کسی چیز میں مفہوم کے لزوم، دوام اور ہمیشگی کے لیے آتا ہے، وہ صفت اس سے جدا نہیں ہو سکتی، مثلاً علیم، حلیم، عظیم، خبیر، بصیر، سمیع، رئوف اور رحیم۔ یعنی وہ ذات جس کی رحمت دائمی ہے، کبھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ دونوں صفتوں کے ملنے سے صفت رحمت کی وسعت بھی ثابت ہوئی اور اس کا دوام بھی۔ اگر اس کی رحمت میں وسعت و کثرت نہ ہو تو بعض مخلوق محروم رہ جائے اور اگر اس میں دوام نہ ہو تو کوئی چیز نہ پایۂ تکمیل تک پہنچے، نہ باقی رہ سکے۔
➋ قرآن مجید میں ثنائے الٰہی پر مشتمل تمام آیات { الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ } کی تفصیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان نماز کی تقسیم والی حدیث قدسی کے مطابق بندہ جب { الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ } کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا کی۔ [مسلم، الصلوۃ، باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ …: ۳۹۵]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

1 رحمن بروز فعلان اور رحیم بر وزن فعیل ہے۔ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ جن میں کثرت اور دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا ہے اور اس کی یہ صفت دیگر صفات کی طرح دائمی ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں رحمٰن میں رحیم کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے اسی لیے رحمٰن الدنیا والآخرہ کہا جاتا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت جس میں بلا تخصیص کافر و مومن سب فیض یاب ہو رہے ہیں اور آخرت میں وہ صرف رحیم ہوگا۔ یعنی اس کی رحمت صرف مومنین کے لئے خاص ہوگی۔ اللھم اجعلنا منھم۔ آمین

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ جو بڑا مہربان [7] نہایت رحم کرنے والا ہے
[7] «رحمٰن» اور «رحيم» کا فرق پہلی آیت ﴿بسم الله الرحمٰن الرحيم﴾ میں بتایا جا چکا ہے۔ ان الفاظ کو یہاں دوبارہ لانے کا مقصد صرف اس بات کا اظہار ہے کہ تمام جہانوں کی ربوبیت عامہ کے تقاضے صرف اسی صورت میں پورے ہو سکتے ہیں جب ان عالمین کا پروردگار «رحمٰن» بھی ہو اور «رحيم» بھی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ «رحمٰن» اور «رحيم» نہ ہوتا تو یہ دنیا کبھی آباد نہ رہ سکتی بلکہ کب کی فنا ہو چکی ہوتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بہت بخشش کرنے والا بڑا مہربان ٭٭
اس کی تفسیر پہلے پوری گزر چکی ہے اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «رَبِّ الْعَالَمِينَ» کے وصف کے بعد آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا وصف ترہیب یعنی ڈراوے کے بعد ترغیب یعنی امید ہے۔
جیسے فرمایا: «نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [15-الحجر:49]‏‏‏‏ الخ یعنی ’میرے بندوں کو خبر دو کہ میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں اور میرے عذاب بھی درد ناک عذاب ہیں‘۔
اور فرمایا «إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۲؎ [6-الأنعام:165]‏‏‏‏ الخ یعنی ’تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور مہربان اور بخشش بھی کرنے والا ہے‘۔ «رب» کے لفظ میں ڈراوا ہے اور «رحمن» اور «رحیم» کے لفظ میں امید ہے۔
صحیح مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایماندار اللہ کے غضب و غصہ سے اور اس کے سخت عذاب سے پورا وقف ہوتا (‏‏‏‏تو اس وقت)‏‏‏‏‏‏‏‏ اس کے دل سے جنت کی طمع ہٹ جاتی اور اگر کافر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی رحمتوں کو پوری طرح جان لیتا تو کبھی ناامید نہ ہوتا} ۳؎۔ [صحیح مسلم:2755]‏‏‏‏