کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ام سلمہ رضی الله عنہا کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 3589
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهَا أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُولِي : " اللَّهُمَّ هَذَا اسْتِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ وَحُضُورُ صَلَوَاتِكَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَغْفِرَ لِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَحَفْصَةُ بِنْتُ أَبِي كَثِيرٍ لَا نَعْرِفُهَا وَلَا نَعْرِفُ أَبَاهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی : «اللهم هذا استقبال ليلك واستدبار نهارك وأصوات دعاتك وحضور صلواتك أسألك أن تغفر لي» ” اے اللہ ! یہ تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کا وقت ہے اور تجھے یاد کرنے کی آوازوں اور تیری نماز کے لیے پہنچنے کا وقت ہے میں ( ایسے وقت میں ) اپنی مغفرت کے لیے تجھ سے درخواست کرتا ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- حفصہ بنت ابی کثیر کو ہم نہیں جانتے اور نہ ہی ہم ان کے باپ کو جانتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3589
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الكلم الطيب (76 / 35) ، ضعيف أبي داود (85) // (105 / 530) //، المشكاة (669)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصلاة 39 (530) ( تحفة الأشراف : 18246) (ضعیف) (سند میں ابوکثیر لین الحدیث راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 3590
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ الصُّدَائِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَالَ عَبْدٌ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَطُّ مُخْلِصًا إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بھی کوئی بندہ خلوص دل سے «لا إله إلا الله» کہے گا اور کبائر سے بچتا رہے گا تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ، اور یہ کلمہ «لا إله إلا الله» عرش تک جا پہنچے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3590
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (2314 / التحقيق الثانى) ، التعليق الرغيب (2 / 238)
تخریج حدیث «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 242 (833) ( تحفة الأشراف : 13449) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3591
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ , وَأَبُو أُسَامَةَ , عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ , وَالْأَعْمَالِ , وَالْأَهْوَاءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَعَمُّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ هُوَ قُطْبَةُ بْنُ مَالِكٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من منكرات الأخلاق والأعمال والأهواء» ” اے اللہ ! میں تجھ سے بری عادتوں ، برے کاموں اور بری خواہشوں سے پناہ مانگتا ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے
۲- اور زیاد بن علاقہ کے چچا کا نام قطبہ بن مالک ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3591
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (2471 / التحقيق الثانى)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11088) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3592
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " عَجِبْتُ لَهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ هُوَ حَجَّاجُ بْنُ مَيْسَرَةَ الصَّوَّافُ , وَيُكْنَى : أَبَا الصَّلْتِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۱؎ ، اسی دوران ایک شخص نے کہا : «الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ” اللہ بہت بڑائی والا ہے ، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سنا تو ) پوچھا : ” ایسا ایسا کس نے کہا ہے ؟ “ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : میں نے کہا ہے ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” میں اس کلمے کو سن کر حیرت میں پڑ گیا ، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے “ ۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں : جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے میں نے ان کا پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- حجاج بن ابی عثمان یہ حجاج بن میسرہ صواف ہیں ، ان کی کنیت ابوصلت ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ۔
فائدہ ۱؎ : ” نماز پڑھ رہے تھے “ سے مراد : ہم لوگ نماز شروع کر چکے تھے ، اتنے میں وہ آدمی آیا اور دعا ثناء کی جگہ اس نے یہی کلمات کہے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تقریر ( تصدیق ) کر دی ، تو گویا ثناء کی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعا بھی ایک ثناء ہے ، امام نسائی دعا ثناء کے باب ہی میں اس حدیث کو لاتے ہیں ، اس لیے بعض علماء کا یہ کہنا کہ «سبحانک اللہم …» کے سواء ثنا کی بابت منقول ساری دعائیں سنن و نوافل سے تعلق رکھتی ہیں ، صحیح نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3592
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صفة الصلاة (74)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المساجد 27 (601) ، سنن النسائی/الافتتاح 8 (886) ( تحفة الأشراف : 7369) ، و مسند احمد (2/14) (صحیح)»