کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: ام سلمہ رضی الله عنہا کی دعا کا بیان
❮
❯
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهَا أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُولِي : " اللَّهُمَّ هَذَا اسْتِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ وَحُضُورُ صَلَوَاتِكَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَغْفِرَ لِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَحَفْصَةُ بِنْتُ أَبِي كَثِيرٍ لَا نَعْرِفُهَا وَلَا نَعْرِفُ أَبَاهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی : «اللهم هذا استقبال ليلك واستدبار نهارك وأصوات دعاتك وحضور صلواتك أسألك أن تغفر لي» ” اے اللہ ! یہ تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کا وقت ہے اور تجھے یاد کرنے کی آوازوں اور تیری نماز کے لیے پہنچنے کا وقت ہے میں ( ایسے وقت میں ) اپنی مغفرت کے لیے تجھ سے درخواست کرتا ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- حفصہ بنت ابی کثیر کو ہم نہیں جانتے اور نہ ہی ہم ان کے باپ کو جانتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3589
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الكلم الطيب (76 / 35) ، ضعيف أبي داود (85) // (105 / 530) //، المشكاة (669)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصلاة 39 (530) ( تحفة الأشراف : 18246) (ضعیف) (سند میں ابوکثیر لین الحدیث راوی ہیں)»
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ الصُّدَائِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَالَ عَبْدٌ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَطُّ مُخْلِصًا إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بھی کوئی بندہ خلوص دل سے «لا إله إلا الله» کہے گا اور کبائر سے بچتا رہے گا تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ، اور یہ کلمہ «لا إله إلا الله» عرش تک جا پہنچے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3590
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (2314 / التحقيق الثانى) ، التعليق الرغيب (2 / 238)
تخریج حدیث «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 242 (833) ( تحفة الأشراف : 13449) (صحیح)»
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ , وَأَبُو أُسَامَةَ , عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ , وَالْأَعْمَالِ , وَالْأَهْوَاءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَعَمُّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ هُوَ قُطْبَةُ بْنُ مَالِكٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من منكرات الأخلاق والأعمال والأهواء» ” اے اللہ ! میں تجھ سے بری عادتوں ، برے کاموں اور بری خواہشوں سے پناہ مانگتا ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے
۲- اور زیاد بن علاقہ کے چچا کا نام قطبہ بن مالک ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3591
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (2471 / التحقيق الثانى)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11088) (صحیح)»
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " عَجِبْتُ لَهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ هُوَ حَجَّاجُ بْنُ مَيْسَرَةَ الصَّوَّافُ , وَيُكْنَى : أَبَا الصَّلْتِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۱؎ ، اسی دوران ایک شخص نے کہا : «الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ” اللہ بہت بڑائی والا ہے ، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سنا تو ) پوچھا : ” ایسا ایسا کس نے کہا ہے ؟ “ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : میں نے کہا ہے ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” میں اس کلمے کو سن کر حیرت میں پڑ گیا ، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے “ ۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں : جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے میں نے ان کا پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- حجاج بن ابی عثمان یہ حجاج بن میسرہ صواف ہیں ، ان کی کنیت ابوصلت ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ۔
فائدہ ۱؎ : ” نماز پڑھ رہے تھے “ سے مراد : ہم لوگ نماز شروع کر چکے تھے ، اتنے میں وہ آدمی آیا اور دعا ثناء کی جگہ اس نے یہی کلمات کہے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تقریر ( تصدیق ) کر دی ، تو گویا ثناء کی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعا بھی ایک ثناء ہے ، امام نسائی دعا ثناء کے باب ہی میں اس حدیث کو لاتے ہیں ، اس لیے بعض علماء کا یہ کہنا کہ «سبحانک اللہم …» کے سواء ثنا کی بابت منقول ساری دعائیں سنن و نوافل سے تعلق رکھتی ہیں ، صحیح نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3592
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صفة الصلاة (74)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المساجد 27 (601) ، سنن النسائی/الافتتاح 8 (886) ( تحفة الأشراف : 7369) ، و مسند احمد (2/14) (صحیح)»