کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: بیماری و تکلیف میں جھاڑ پھونک کا بیان
حدیث نمبر: 3588
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ : قَالَ لِي : يَا مُحَمَّدُ إِذَا اشْتَكَيْتَ فَضَعْ يَدَكَ حَيْثُ تَشْتَكِي ، وَقُلْ : " بِسْمِ اللَّهِ ، أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا ، ثُمَّ ارْفَعْ يَدَكَ ثُمَّ أَعِدْ ذَلِكَ وِتْرًا " ، فَإِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ بِذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت بنانی اپنے شاگرد محمد بن سالم سے کہتے ہیں کہ` جب تمہیں درد ہو تو جہاں درد اور تکلیف ہو وہاں ہاتھ رکھو پھر پڑھو : «بسم الله أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد من وجعي هذا» ” اللہ کے نام سے اللہ کی عزت و قدرت کے سہارے میں اپنی اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کر رہا ہوں پناہ چاہتا ہوں “ ۔ ، پھر ( درد کی جگہ سے ) ہاتھ ہٹا لو پھر ایسے ہی طاق ( تین یا پانچ یا سات ) بار کرو ، کیونکہ انس بن مالک نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایسا ہی بیان کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، اور محمد بن سالم یہ بصریٰ شیخ ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1258)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 466) (صحیح)»