کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب:۔۔۔
❮
❯
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ ، فَقَالَ : " أَيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ ؟ " قَالَ : دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ ، قَالَ : " فَإِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ " ، وَسَمِعَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ : يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَقَالَ : " قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ " ، وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ ، فَقَالَ : " سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا : «اللهم إني أسألك تمام النعمة» ” اے اللہ ! میں تجھ سے نعمت تامہ مانگ رہا ہوں “ ، آپ نے اس شخص سے پوچھا : ” نعمت تامہ کیا چیز ہے ؟ “ اس شخص نے کہا : میں نے ایک دعا مانگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے اس سے خیر حاصل ہو گی ، آپ نے فرمایا : ” بیشک نعمت تامہ میں جنت کا دخول اور جہنم سے نجات دونوں آتے ہیں “ ۔ آپ نے ایک اور آدمی کو ( بھی ) دعا مانگتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہا تھا : ” «يا ذا الجلال والإكرام» “ ، آپ نے فرمایا : ” تیری دعا قبول ہوئی تو مانگ لے ( جو تجھے مانگنا ہو ) “ ، آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا ، «اللهم إني أسألك الصبر» ” اے اللہ ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں “ ، آپ نے فرمایا : ” تو نے اللہ سے بلا مانگی ہے اس لیے تو عافیت بھی مانگ لے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (4520)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11358) ، و مسند احمد (5/235) (ضعیف) (سند میں ’’ ابوالورد ‘‘ لین الحدیث راوی ہیں)»
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسماعیل بن ابراہیم نے جریری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (4520)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ " ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْروٍ يُلَقِّنُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو ( یہ دعا ) پڑھے : «أعوذ بكلمات الله التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» ” میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل و جامع کلموں کے ذریعہ اللہ کے غضب ، اللہ کے عذاب اور اللہ کے بندوں کے شر و فساد اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ ہمارے پاس آئیں “ “ ۔ ( یہ دعا پڑھنے سے ) یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا ۔ ( تاکہ وہ اسے یاد کر لیں ، نہ کہ تعویذ کے طور پر ) عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے ، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس کے لیے دیکھئیے ترمذی: کتاب الطب حدیث رقم: ۲۰۷۲ کا حاشیہ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3528
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن دون قوله " فكان عبد الله 0000 " الكلم الطيب (48 / 35) ، صحيح أبي داود (3294 / 3893) , شیخ زبیر علی زئی: (3528) إسناده ضعيف / د 3893
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطب 19 (3893) ( تحفة الأشراف : 8781) (حسن) (عبداللہ بن عمرو کا اثر ثابت نہیں ہے، الکلم الطیب)»