حدیث نمبر: 3527
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ ، فَقَالَ : " أَيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ ؟ " قَالَ : دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ ، قَالَ : " فَإِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ " ، وَسَمِعَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ : يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَقَالَ : " قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ " ، وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ ، فَقَالَ : " سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا : «اللهم إني أسألك تمام النعمة» ” اے اللہ ! میں تجھ سے نعمت تامہ مانگ رہا ہوں “ ، آپ نے اس شخص سے پوچھا : ” نعمت تامہ کیا چیز ہے ؟ “ اس شخص نے کہا : میں نے ایک دعا مانگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے اس سے خیر حاصل ہو گی ، آپ نے فرمایا : ” بیشک نعمت تامہ میں جنت کا دخول اور جہنم سے نجات دونوں آتے ہیں “ ۔ آپ نے ایک اور آدمی کو ( بھی ) دعا مانگتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہا تھا : ” «يا ذا الجلال والإكرام» “ ، آپ نے فرمایا : ” تیری دعا قبول ہوئی تو مانگ لے ( جو تجھے مانگنا ہو ) “ ، آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا ، «اللهم إني أسألك الصبر» ” اے اللہ ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں “ ، آپ نے فرمایا : ” تو نے اللہ سے بلا مانگی ہے اس لیے تو عافیت بھی مانگ لے “ ۔
حدیث نمبر: 3527M
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسماعیل بن ابراہیم نے جریری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3528
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ " ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْروٍ يُلَقِّنُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو ( یہ دعا ) پڑھے : «أعوذ بكلمات الله التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» ” میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل و جامع کلموں کے ذریعہ اللہ کے غضب ، اللہ کے عذاب اور اللہ کے بندوں کے شر و فساد اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ ہمارے پاس آئیں “ “ ۔ ( یہ دعا پڑھنے سے ) یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا ۔ ( تاکہ وہ اسے یاد کر لیں ، نہ کہ تعویذ کے طور پر ) عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے ، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس کے لیے دیکھئیے ترمذی: کتاب الطب حدیث رقم: ۲۰۷۲ کا حاشیہ۔