کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: مردوں کے لیے زرد رنگ میں رنگا اور قسی ریشم کا بنا ہوا کپڑا پہننا حرام ہے۔
❮
❯
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : " مَرَّ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّهُمْ كَرِهُوا لُبْسَ الْمُعَصْفَرِ ، وَرَأَوْا أَنَّ مَا صُبِغَ بِالْحُمْرَةِ بِالْمَدَرِ ، أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مُعَصْفَرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص سرخ رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے گزرا ۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- اس حدیث سے اہل علم کے نزدیک مراد یہ ہے کہ وہ زرد رنگ میں رنگا ہوا کپڑا پہننا مکروہ سمجھتے ہیں ۔ اور جو کپڑا گیروے رنگ وغیرہ میں رنگا جائے اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب کہ وہ کسم کا نہ ہو ( یعنی زرد رنگ کا نہ ہو ) ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2807
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (878 / 4069) // , شیخ زبیر علی زئی: (2807) إسناده ضعيف / د 4069
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ اللباس 20 (4069) ( تحفة الأشراف : 8918) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو یحییٰ القتات لین الحدیث ہیں، مگر دیگر روایات سے اس کا معنی ثابت ہے)»
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ بْنُ أَبِي طًالِبٍ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنِ الْمِيثَرَةِ ، وَعَنِ الْجِعَةِ " ، قَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ : وَهُوَ شَرَابٌ يُتَّخَذُ بِمِصْرَ مِنَ الشَّعِيرِ ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ( مردوں کو ) سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، قسی کے ( ریشم ملے ہوئے ) کپڑے پہننے سے ، زین پر رکھنے والی ریشمی گدیلے سے اور جَو کی نبیذ سے ۔ ابوالا ٔحوص کہتے ہیں «جعه» ایک شراب ہے جو مصر میں جَو سے بنائی جاتی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح المتن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 264 ( تحفة الأشراف : 10304) (صحیح)»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ ، أَمَرَنَا : بِاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ ، وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ ، وَرَدِّ السَّلَامِ ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ : عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ ، وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ ، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَالدِّيبَاجِ ، وَالْإِسْتَبْرَقِ ، وَالْقَسِّيِّ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ هُوَ أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ الْأَسْوَدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں کے کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جنازے کے ساتھ جائیں ۔ مریض کی عیادت کریں ، چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دیں ۔ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کریں ، مظلوم کی مدد کریں ، اور قسم کھانے والے کی قسم پوری کرائیں ، اور سلام کا جواب دیں کا ، اور سات چیزوں سے آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے سونے کی انگوٹھی پہننے ، یا سونے کے چھلے استعمال کرنے سے ، اور چاندی کے برتنوں سے اور حریر ، دیباج ، استبرق اور قسی کے پہننے سے ( یہ سب ریشمی کپڑے ہیں ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اشعث بن سلیم : یہ اشعث بن ابوشعثاء ہیں ، ابوشعثاء کا نام سلیم بن اسود ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2809
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى طرف منه (1760)
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 1760 (صحیح)»