سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عِنْدَ الْمَوْتِ باب: موت کے وقت کی سختی کا بیان۔
حدیث نمبر: 980
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ الْمِصَكِّ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنُ تَخْرُجُ رَشْحًا ، وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ " ، قِيلَ : وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ ؟ قَالَ : " مَوْتُ الْفَجْأَةِ " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں “ ۔ عرض کیا گیا : گدھے کی موت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اچانک موت “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´موت کے وقت کی سختی کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: " مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں۔" عرض کیا گیا: گدھے کی موت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: " اچانک موت۔" [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 980]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: " مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں۔" عرض کیا گیا: گدھے کی موت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: " اچانک موت۔" [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 980]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حسام متروک راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں حسام متروک راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 980 سے ماخوذ ہے۔