کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: موت کے وقت کی سختی کا بیان۔
❮
❯
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ، ثُمَّ يَقُولُ :" اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ ، وسَكَرَاتِ الْمَوْتِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے ، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا ، جس میں پانی تھا ، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے : «اللهم أعني على غمرات الموت أو سكرات الموت» ” اے اللہ ! سکرات الموت میں میری مدد فرما “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 978
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (1623) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (357) ، المشكاة (1564) ، ضعيف الجامع الصغير (1176) //
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الجنائز 64 (1623) ، ( تحفة الأشراف : 17556) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن سرجس مجہول الحال راوی ہیں)»
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلاَئِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا أَغْبِطُ أَحَدًا بِهَوْنِ مَوْتٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ شِدَّةِ مَوْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ. وَقُلْتُ لَهُ: مَنْ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْعَلاَئِ؟ فَقَالَ: هُوَ الْعَلاَئُ بْنُ اللَّجْلاَجِ. وَإِنَّمَا عَرَّفَهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی جو شدت میں نے دیکھی ، اس کے بعد میں کسی کی جان آسانی سے نکلنے پر رشک نہیں کرتی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالرحمٰن بن علاء کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : وہ علاء بن اللجلاج ہیں ، میں اسے اسی طریق سے جانتا ہوں ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ موت کی سختی برے ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ ترقی درجات اور گناہوں کی مغفرت کا بھی سبب ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 979
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل المحمدية (325)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 16274) (صحیح)»
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ الْمِصَكِّ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنُ تَخْرُجُ رَشْحًا ، وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ " ، قِيلَ : وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ ؟ قَالَ : " مَوْتُ الْفَجْأَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں “ ۔ عرض کیا گیا : گدھے کی موت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اچانک موت “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 980
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: (980) ضعيف, حسام بن مصك : ضعيف يكاد أن يترك (تق:1193 ) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 533) (ضعیف جداً) (سند میں حسام متروک راوی ہے)»