حدیث نمبر: 978
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ، ثُمَّ يَقُولُ :" اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ ، وسَكَرَاتِ الْمَوْتِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے ، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا ، جس میں پانی تھا ، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے : «اللهم أعني على غمرات الموت أو سكرات الموت» ” اے اللہ ! سکرات الموت میں میری مدد فرما “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 978
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (1623) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (357) ، المشكاة (1564) ، ضعيف الجامع الصغير (1176) //
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1623

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´موت کے وقت کی سختی کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا، جس میں پانی تھا، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے: «اللهم أعني على غمرات الموت أو سكرات الموت» اے اللہ! سکرات الموت میں میری مدد فرما۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 978]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن سرجس مجہول الحال راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 978 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1623 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1623]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہی واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے۔
اس میں یہ الفاظ ہیں۔ (لَاإِلٰهَ إِلاَّ اللهَ إِنَّ لَلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ)
 ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یقیناً موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، باب مرض النبي ﷺ ووفاته،  حدیث: 4449)

(2)
رسول ا للہ ﷺ نے زندگی کے آخری وقت میں چہرے پر پانی والا ہاتھ پھیرا اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو آخری ایام میں سخت بخارتھا۔
اس لئے وفات سے چار دن پہلے (جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات)
عشاء کے وقت نبی کریم ﷺ نے غسل فرمایا تھا تاکہ بخار کی شدت کم ہوتو نماز باجماعت ادا فرمایئں لیکن ضعف کی شدت کی وجہ سے مسجد میں تشریف نہ لے جا سکے۔

(3)
نبی اکرم ﷺ نے آخری وقت میں بھی اللہ کی طرف توجہ فرمائی اور اسی کا ذکر فرمایا اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف توجہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1623 سے ماخوذ ہے۔