سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ باب: محرم کون کون سے جانور مار سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ : السَّبُعَ الْعَادِيَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفَأْرَةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْحِدَأَةَ وَالْغُرَابَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالُوا : الْمُحْرِمُ يَقْتُلُ السَّبُعَ الْعَادِيَ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ : كُلُّ سَبُعٍ عَدَا عَلَى النَّاسِ أَوْ عَلَى دَوَابِّهِمْ فَلِلْمُحْرِمِ قَتْلُهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” محرم سرکش درندے ، کاٹ کھانے والے کتے ، چوہا ، بچھو ، چیل اور کوے مار سکتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ کہتے ہیں : محرم ظلم ڈھانے والے درندوں کو مار سکتا ہے ، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ۔ شافعی کہتے ہیں : محرم ہر اس درندے کو جو لوگوں کو یا جانوروں کو ایذاء پہنچائے ، مار سکتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محرم کون کون سے جانور مار سکتا ہے؟`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” محرم سرکش درندے، کاٹ کھانے والے کتے، چوہا، بچھو، چیل اور کوے مار سکتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 838]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” محرم سرکش درندے، کاٹ کھانے والے کتے، چوہا، بچھو، چیل اور کوے مار سکتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 838]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 838 سے ماخوذ ہے۔