حدیث نمبر: 802
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفِطْرُ يَوْمَ يُفْطِرُ النَّاسُ ، وَالْأَضْحَى يَوْمَ يُضَحِّي النَّاسُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا ، قُلْتُ لَهُ : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : نَعَمْ ، يَقُولُ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عید الفطر کا دن وہ ہے جب لوگ عید منائیں ، اور عید الاضحی کا دن وہ ہے جس دن لوگ قربانی کریں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث ، اس سند سے حسن غریب صحیح ہے ، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا : کیا محمد بن منکدر نے عائشہ سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، وہ اپنی روایت میں کہتے ہیں : میں نے عائشہ سے سنا ۔

وضاحت:
۱؎: دیکھئیے حدیث رقم ۶۹۷ اور اس کا حاشیہ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 802
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1660)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1760) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 385

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عیدالفطر اور عید الاضحی کب منائی جائے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر کا دن وہ ہے جب لوگ عید منائیں، اور عید الاضحی کا دن وہ ہے جس دن لوگ قربانی کریں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 802]
اردو حاشہ:
1؎:
دیکھیے حدیث رقم 697 اور اس کا حاشہ۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 802 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 385 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز عیدین کا بیان`
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عید الفطر اس دن ہے جس دن لوگ افطار کریں (یعنی روزے مکمل کر کے روزے رکھنا چھوڑ دیں) اور عید الاضحی اس روز ہے جس دن لوگ قربانیاں کرتے ہیں۔ (ترمذی) «بلوغ المرام/حدیث: 385»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، الصوم، باب ما جاء في الفطر والأضحي متي يكون، حديث:802، وقال: "حسن غريب صحيح".»
تشریح: 1. اس حدیث سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اہل اسلام کی صرف دو عیدیں ہیں۔
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔
ان دونوں کے علاوہ تیسری یا چوتھی کسی عید کا تصور اور نشان اسلام میں کہیں دور دور تک بھی نہیں پایا جاتا۔
بعض مسلمانوں نے کئی اور عیدیں منانا شروع کر رکھی ہیں‘ حالانکہ شریعت اسلامیہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
2. دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ عیدیں اجتماعیت کا سبق دیتی ہیں۔
اسلامی عبادات میں اجتماعیت کا تصور ہے۔
ایک آدمی چاند دیکھ کر کوئی عید اپنے طور پر نہیں منا سکتا بلکہ اسے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ ادا کرنے میں لوگوں کی غالب اکثریت کی موافقت کرنی چاہیے اور اگر اسے یقین کامل ہو جائے تو پھر بھی عیدین کی نماز عام لوگوں کے ساتھ ہی ادا کرے گا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 385 سے ماخوذ ہے۔