حدیث نمبر: 3887
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَبِي مُوسَى . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ هُوَ أَبُو طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ , وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں عائشہ ، ابوموسیٰ اشعری سے احادیث آئی ہیں ، ۳- عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری سے مراد ابوطوالہ انصاری مدنی ہیں اور وہ ثقہ ہیں ، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: ان عورتوں میں سے مریم، خدیجہ اور فاطمہ مستثنیٰ ہیں، جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3887
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3281)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 30 (3770) ، والأطعمة 25 (5419) ، و30 (5428) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2446) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 14 (3281) ( تحفة الأشراف : 970) ، و مسند احمد (3/156، 264) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3770 | صحيح البخاري: 5419 | صحيح البخاري: 5428 | صحيح مسلم: 2446 | سنن ابن ماجه: 3281 | معجم صغير للطبراني: 856

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3887]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان عورتوں میں سے مریم، خدیجہ اور فاطمہ مستثنیٰ ہیں، جیساکہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3887 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5419 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5419. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عائشہ کی فضیلت دوسری عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5419]
حدیث حاشیہ:
ثرید ایک بہترین کھانا، جلدی ہضم ہونے والا اور مقوی غذا ہے۔
اس حدیث سے اس کی برتری کا پتا چلتا ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونچے مقام و مرتبے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
اس کی تشریح پہلے کتاب المناقب میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5419 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5428 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5428. حجرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عائشہ کی برتری دوسری عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کو دیگر کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5428]
حدیث حاشیہ: اسی لیے ثرید کھانا بھی گویا بہترین کھانا کھانا ہے جو آج مسلمانوں میں مرغوب ہے۔
خصوصاً محبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آج بھی ثرید بنا کر کھانا مرغوب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5428 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5428 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5428. حجرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عائشہ کی برتری دوسری عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کو دیگر کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5428]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس میں ثرید کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کھانے کو بہت پسند کرتے تھے۔
گوشت کے شوربے میں روٹی کے ٹکڑے بھگو دیے جاتے ہیں۔
جب یہ نرم ہو جائیں تو انہیں کھایا جاتا ہے۔
یہ کھانا انتہائی مزیدار اور زود ہضم ہوتا ہے۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ مزیدار کھانے میں کوئی حرج نہیں یہ ضروری نہیں کہ اسے کسی چیز سے بد مزہ کر کے استعمال کیا جائے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5428 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3770 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3770. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’حضرت عائشہ ؓ کو دوسری تمام عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو دوسرے تمام کھانوں پر ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3770]
حدیث حاشیہ:

ثرید میں ایک لطافت ظاہری یہ ہے کہ وہ لذیذ اور زودہضم ہے اور اسے چبانے میں آسانی ہوتی ہے اورباطنی لطافت یہ ہے کہ اس سے صالح خون پیدا ہوتا ہے جومردانہ قوت کا باعث ہے۔
اس طرح حضرت عائشہ ؓ کی ظاہری برتری یہ ہے کہ ان کی زبان پر فصاحت وبلاغت اور بیان میں روانی تھی۔
اور باطنی فضیلت یہ ہے کہ فقہیہ اور صاحب بصیرت تھیں۔
عربوں میں جو کھانے تھے ان میں ثرید زیادہ مرغوب اور پسندیدہ تھا۔

اس تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ میں حسن خلق،حلاوتِ نطق،زبان کی فصاحت،جودتِ طبع،رائے کی پختگی اور عقل میں سنجیدگی بدرجہ اتم موجود تھیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ رسول اللہ ﷺ سے انھیں بہت محبت تھی اور رسول اللہ ﷺ کے ہاں بھی ان کی بہت چاہت تھی۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دین کے ایک تہائی مسائل ان سے مروی ہیں۔
یہ اعزاز کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3770 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3281 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´دیگر کھانوں پر ثرید کی فضیلت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3281]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسانوں میں کمال کا سب سے مقام بلند مقام نبوت کا ہے جو عورتوں کو حاصل نہیں ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَما أَر‌سَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِ‌جالًا﴾ (یوسف 12: 109)
’’(اے نبی!)
ہم نے آپ سے پہلے صرف مرد ہی (رسول بناکر)
بھیجے ہیں‘‘۔
اس لیے حدیث میں وہ کمال مراد ہے جوصرف وہبی نہیں بلکہ اس میں کسب کا بھی حصہ ہے یعنی صدیقیت کا مقام۔
گزشتہ امتوں کی عورتوں میں صدیقیت کا اعلیٰ ترین مقام حضرت مريم ؑاور حضرت آسیہ ؓ کو حاصل ہوا۔
امت محمدیہ میں یہ مقام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا۔

(2)
ثرید روٹی کے چھوٹے چھوٹےٹکڑے کرکے شوربے میں بھگو کر بنایا ہوا ایک قسم کا کھانا ہے۔
اس دور کے ماحول میں یہ بہترین کھانا تھا جو غذائیت کے لحاظ سے بھی بہترین ہے اور لذت کے لحاظ سے بھی اس کے علاوہ آسانی سے تیار ہو جاتا ہے جلدی ہضم ہوتا ہے اور بہت سے فوائد کا حامل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3281 سے ماخوذ ہے۔