سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّزَعْفُرِ وَالْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ باب: زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا مُتَخَلِّقًا ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ بَعْضُهُمْ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ عَلِيٌّ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : مَنْ سَمِعَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَدِيمًا فَسَمَاعُهُ صَحِيحٌ ، وَسَمَاعُ شُعْبَةَ ، وَسُفْيَانَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ صَحِيحٌ ، إِلَّا حَدِيثَيْنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ شُعْبَةُ : سَمِعْتُهُمَا مِنْهُ بِآخِرَةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : يُقَالُ إِنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ كَانَ فِي آخِرِ أَمْرِهِ قَدْ سَاءَ حِفْظُهُ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَمَّارٍ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَأَنَسٍ ، وَأَبُو حَفْصٍ هُوَ أَبُو حَفْصِ بْنُ عُمَرَ .´یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎ ، تو آپ نے فرمایا : ” جاؤ اسے دھو ڈالو ۔ پھر دھو ڈالو ، پھر ( آئندہ کبھی ) نہ لگاؤ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- بعض لوگوں نے عطا بن سائب سے اس حدیث کی اسناد میں اختلاف کیا ہے ، ۳- علی ( علی ابن المدینی ) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے کہ جس نے عطاء بن سائب سے ان کی زندگی کے پرانے ( پہلے ) دور میں سنا ہے تو اس کا سماع صحیح ہے اور شعبہ اور سفیان ثوری کا عطاء بن سائب سے سماع صحیح ہے مگر دو حدیثیں جو عطاء سے زاذان کے واسطہ سے مروی ہیں تو وہ صحیح نہیں ہیں ، ۴- شعبہ کہتے ہیں میں نے ان دونوں حدیثوں کو عطاء سے ان کی عمر کے آخری دور میں سنا ہے ۔ ( اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے ) ، ۵- کہا جاتا ہے کہ عطاء بن سائب کا حافظہ ان کے آخری دور میں بگڑ گیا تھا ، ۶- اس باب میں عمار ، ابوموسیٰ ، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: ” جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2816]
1؎:
خلوق: ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔
نوٹ:
(سند میں ابوحفص مجہول راوی ہے)