حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 841
841 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَي بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأنَا مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ لِي: «يَا يَعْلَي، أَلَكَ امْرَأَةٌ؟» ، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَاغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ، ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ» قَالَ يَعْلَي: «فَغَسَلْتُهُ وَلَا أَعُودُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ وَلَا أَعُودُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ وَلَا أَعُودُ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا، میں نے مخصوص قسم کی خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: ”اے یعلیٰ! کیا تمہاری بیوی ہے؟ (یعنی کیا تم شادی شدہ ہو)“ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے دھو دو اور دوبارہ نہ لگانا۔ سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے اسے دھو لیا اور دوبارہ نہیں لگایا پھر میں نے اسے دھویا اور اسے دوبارہ نہیں لگایا۔ پھر میں نے اسے دھو دیا اور اسے دوبارہ نہیں لگایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2816 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے۔`
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: " جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔" [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2816]
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: " جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر (آئندہ کبھی) نہ لگاؤ۔" [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2816]
اردو حاشہ:
1؎:
خلوق: ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔
نوٹ:
(سند میں ابوحفص مجہول راوی ہے)
1؎:
خلوق: ایک قسم کی خوشبو ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔
نوٹ:
(سند میں ابوحفص مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2816 سے ماخوذ ہے۔