حدیث نمبر: 2743
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا شَاهِدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ " ثُمَّ عَطَسَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا رَجُلٌ مَزْكُومٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «يرحمك الله» ( اللہ تم پر رحم فرمائے ) پھر اسے دوبارہ چھینک آئی تو آپ نے فرمایا : ” اسے تو زکام ہو گیا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ایک یا دو سے زیادہ بار چھینک آنے پر جواب دینے کی ضرورت نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ : " أَنْتَ مَزْكُومٌ " ، قَالَ : هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا وہ کہتے ہیں` مجھ سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے بیان کیا عکرمہ بن عمار نے اور عکرمہ نے ایاس بن سلمہ سے ، ایاس نے اپنے باپ سلمہ سے اور سلمہ رضی الله عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ، مگر اس روایت میں یہ ہے کہ آپ نے اس آدمی کے تیسری بار چھینکنے پر فرمایا : ” تمہیں تو زکام ہو گیا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ ابن مبارک کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔

وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ هَذَا الْحَدِيثَ نَحْوَ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَكَمِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، نَحْوَ رِوَايَةِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ : " أَنْتَ مَزْكُومٌ " ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اور شعبہ نے` اس حدیث کو عکرمہ بن عمار سے یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح روایت کیا ہے ۔ بیان کیا اسے ہم سے احمد بن حکم بصریٰ نے ، انہوں نے کہا : بیان کیا ہم سے محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : بیان کیا ہم سے شعبہ نے اور شعبہ نے عکرمہ بن عمار سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے عکرمہ بن عمار سے ابن مبارک کی روایت کی طرح روایت کی ہے ۔ اس روایت میں ہے کہ آپ نے اس سے تیسری بار چھینکنے پر فرمایا : ” تمہیں زکام ہو گیا ہے “ ۔ اسے بیان کیا مجھ سے اسحاق بن منصور نے ، وہ کہتے ہیں : بیان کیا مجھ سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے ۲؎ ۔

وضاحت:
۲؎: ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ " تیسری بار چھینکنے پر جواب نہ دینے " کی روایت ہی زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2743
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3714)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الزہد 9 (2993) ، سنن ابی داود/ الأدب 100 (5037) ، سنن ابن ماجہ/الأدب 20 (1714) ( تحفة الأشراف : 4513) ، وسنن الدارمی/الاستئذان 32 (2703) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2993 | سنن ابي داود: 5037

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟`
سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يرحمك الله» (اللہ تم پر رحم فرمائے) پھر اسے دوبارہ چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: " اسے تو زکام ہو گیا ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2743]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے معلوم ہوا کہ ایک یا دو سے زیادہ بار چھینک آنے پرجواب دینے کی ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2743 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2993 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا:آپ کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ نے اسے دعا دی "يَرْحَمُكَ اللَّهُ" اللہ تم پر رحم فرمائے۔"اسے دوسری چھینک آئی تو آپ نے فرمایا "اس شخص کو زکام ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7489]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: زکام کی وجہ سے چھینکیں آئیں، تو ایک بار دعا کافی ہے، عام حالات میں آپ نے تین دفعہ دعادی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7489 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5037 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: «يرحمك الله» " اللہ تم پر رحم فرمائے " اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: " آدمی کو زکام ہوا ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5037]
فوائد ومسائل:
پہلی بار چھینک کا جواب دینا لازم ہے۔
اس کے بعد نہیں جیسے صحیح مسلم سے بھی اشارہ ملتا ہے۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، الزھد۔
حدیث: 2993)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5037 سے ماخوذ ہے۔