حدیث نمبر: 2437
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا ، نہ ان کا حساب ہو گا اور نہ ان پر کوئی عذاب ، ( پھر ) ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے ، اور ان کے سوا میرے رب کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4286)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 34 (4286) ( تحفة الأشراف : 4924) ، و مسند احمد (5/250، 268) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4286

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4286 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´امت محمدیہ کی صفات۔`
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے رب (سبحانہ و تعالیٰ) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہو گا، اور نہ ان پر کوئی عذاب، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب عزوجل کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4286]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی رحمت بڑی عظیم ہے۔

(2)
اللہ کا تقرب حاصل کرنا اور انتہائی بلند درجات حاصل کرنا صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے بعد بھی ممکن ہے۔
اب بھی اگر کوئی انسان ایسے عمل کرے جن کی جزا بغیر حساب کے جنت میں جانا ہے۔
تو وہ اس جزا سے محروم نہیں رہے گا۔
جس طرح وہ اعمال انجام دینا اب بھی ممکن ہے جن کے نتیجے میں اللہ کے عرش کے سائے کے نیچے جگہ ملے گی۔

(3)
ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار یعنی ستر ہزار کے علاوہ انچاس لاکھ مزید بغیر حساب کے جنت میں جایئں گے۔

(4) (حثیات) (لپیں)
یعنی دونوں ہاتھ بھر کر لی جانے والی مقدار ا س سے مراد بندوں کی کثیر تعداد ہے۔
جن کو بلا حساب کتاب جنت میں بھیجا جائے گا۔
اور ایسا تین بار ہوگا ان کی تعداد اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4286 سے ماخوذ ہے۔