کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے۔
❮
❯
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا ، نہ ان کا حساب ہو گا اور نہ ان پر کوئی عذاب ، ( پھر ) ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے ، اور ان کے سوا میرے رب کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4286)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 34 (4286) ( تحفة الأشراف : 4924) ، و مسند احمد (5/250، 268) (صحیح)»
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَهْطٍ بِإِيلِيَاءَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , سِوَاكَ ؟ قَالَ : " سِوَايَ " ، فَلَمَّا قَامَ , قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا ابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، أَبِي الْجَذْعَاءِ ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ` میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا ، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے “ ، کسی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، میرے علاوہ ہو گا “ ، پھر جب وہ ( راوی حدیث ) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ کا نام عبداللہ ہے ، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2438
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4316)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 37 (4316) ( تحفة الأشراف : 5212) (صحیح)»
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ جِسْرٍ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَشْفَعُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمِثْلِ رَبِيعَةَ , وَمُضَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عثمان بن عفان رضی الله عنہ قیامت کے دن قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر ، لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مرسل , شیخ زبیر علی زئی: (2439) إسناده ضعيف, جسر بن فرقد: ضعيف ضعفه الجمهور من جهة ، انظر لسان الميزان ( 104/2 ،105) وغيره والخبر مرسل
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (لم یذکرہ المزي ولایوجد في اکثر نسخ السنن) (ضعیف مرسل) (حسن بصری تابعی اور مدلس ہیں)»
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْعَصْبَةِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلرَّجُلِ ، حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کا کوئی شخص کئی جماعت کے لیے شفاعت کرے گا ، کوئی ایک قبیلہ کے لیے شفاعت کرے گا ، کوئی ایک گروہ کے لیے شفاعت کرے گا ، اور کوئی ایک آدمی کے لیے شفاعت کرے گا ، یہاں تک کہ سب جنت میں داخل ہوں جائیں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2440
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5602) // ضعيف الجامع الصغير (2002) // , شیخ زبیر علی زئی: (2440) إسناده ضعيف, عطية العوفي :ضعيف (تقدم:477)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4197) (ضعیف) (سند میں ’’ عطیہ عوفی ‘‘ ضعیف ہیں)»