حدیث نمبر: 2257
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَال : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ( دشمنوں پر ) تمہاری مدد کی جائے گی ، تمہیں مال و دولت ملے گی اور تمہارے لیے قلعے کے دروازے کھولے جائیں گے ، پس تم میں سے جو شخص ایسا وقت پائے اسے چاہیئے کہ وہ اللہ سے ڈرے ، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2257
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1383) ، وانظر الحديث (2809)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : 9359) (ویأتي الجزء الأخیر منہ برقم: 2659) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 233

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 233 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´جھوٹی حدیث بیان کرنے پر وعید`
«. . . ‏‏‏‏وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَلَمْ يَذْكُرِ: «اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا علمْتُم» . . .»
. . . ابن ماجہ نے ابن مسعود اور جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے لیکن «اتقو الحديث» الخ کا ذکر نہیں کیا۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 233]
تحقیق الحدیث:
صحیح ہے۔
◄ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث سنن ترمذی [2257] میں بھی موجود ہے، امام ترمذی نے فرمایا: «هذا حديث حسن صحيح»
◄ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث مسند أحمد [3؍303] وغیرہ میں بھی موجود ہے اور شواہد کے ساتھ صحیح ہے۔
◄ حدیث مذکور متواتر ہے۔ دیکھئے: [قطف الازهار المتناثره فى الاخبار المتواتره ح 1] [لفظ اللآلي المتناثره فى الاحاديث المتواتره 71] اور [نظم المتناثره من الحديث المتواتر ح1]
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 233 سے ماخوذ ہے۔