حدیث نمبر: 2160
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا أَوْ جَادًّا ، فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ ، وَجَعْدَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَالسَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ لَهُ صُحْبَةٌ قَدْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَهُوَ غُلَامٌ ، وَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ ، وَوَالِدُهُ يَزِيدُ بْنُ السَّائِبِ لَهُ أَحَادِيثُ ، هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالسَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یزید بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص کھیل کود میں ہو یا سنجیدگی میں اپنے بھائی کی لاٹھی نہ لے اور جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے ، تو وہ اسے واپس کر دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- سائب بن یزید کو شرف صحبت حاصل ہے بچپن میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں سنی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر سات سال تھی ، ان کے والد یزید بن سائب ۱؎ کی بہت ساری حدیثیں ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں ، سائب بن یزید نمر کے بہن کے بیٹے ہیں ، ۳- اس باب میں ابن عمر ، سلیمان بن صرد ، جعدہ ، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: ان کا نام یزید بن سعید ہے، انہیں یزید بن سائب رضی الله عنہ بھی کہا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (2948) ، الإرواء (1518)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 93 (5003) ( تحفة الأشراف : 11827) ، و مسند احمد (4/221) (صحیح لغیرہ)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 5003

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے۔`
یزید بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کھیل کود میں ہو یا سنجیدگی میں اپنے بھائی کی لاٹھی نہ لے اور جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے، تو وہ اسے واپس کر دے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2160]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان کا نام یزید بن سعید ہے، انہیں یزید بن سائب رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2160 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5003 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ہنسی مذاق میں کوئی کسی کی چیز لے لے تو کیسا ہے؟`
یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان (بلا اجازت) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ۱؎۔‏‏‏‏ سلیمان کی روایت میں («لاعبا ولا جادا‏"‏» کے بجائے) «لعبا ولا جدا» ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ (ضرورت پوری کر کے) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5003]
فوائد ومسائل:
مسلمان کی جان ومال اورعزت وآبرو انتہائی محترم ومحفوظ چیزیں ہیں۔
ہنسی مزاح میں بھی کسی کی ہتک کر دینا یا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5003 سے ماخوذ ہے۔