حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا أَوْ جَادًّا ، فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ ، وَجَعْدَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَالسَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ لَهُ صُحْبَةٌ قَدْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَهُوَ غُلَامٌ ، وَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ ، وَوَالِدُهُ يَزِيدُ بْنُ السَّائِبِ لَهُ أَحَادِيثُ ، هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالسَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص کھیل کود میں ہو یا سنجیدگی میں اپنے بھائی کی لاٹھی نہ لے اور جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے ، تو وہ اسے واپس کر دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- سائب بن یزید کو شرف صحبت حاصل ہے بچپن میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں سنی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر سات سال تھی ، ان کے والد یزید بن سائب ۱؎ کی بہت ساری حدیثیں ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں ، سائب بن یزید نمر کے بہن کے بیٹے ہیں ،
۳- اس باب میں ابن عمر ، سلیمان بن صرد ، جعدہ ، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- سائب بن یزید کو شرف صحبت حاصل ہے بچپن میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں سنی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر سات سال تھی ، ان کے والد یزید بن سائب ۱؎ کی بہت ساری حدیثیں ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں ، سائب بن یزید نمر کے بہن کے بیٹے ہیں ،
۳- اس باب میں ابن عمر ، سلیمان بن صرد ، جعدہ ، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: ان کا نام یزید بن سعید ہے، انہیں یزید بن سائب رضی الله عنہ بھی کہا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ : " حَجَّ يَزِيدُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ ، وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ " ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ : كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ثَبْتًا صَاحِبَ حَدِيثٍ ، وَكَانَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ جَدَّهُ ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ جَدِّي مِنْ قِبَلِ أُمِّي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( میرے والد ) یزید رضی الله عنہ نے حجۃ الوداع کیا ، اس وقت میں سات سال کا تھا ۔ یحییٰ بن سعید قطان کہتے ہیں : محمد بن یوسف ثبت اور صاحب حدیث ہیں ، سائب بن یزید ان کے نانا تھے ، محمد بن یوسف کہتے تھے : مجھ سے سائب بن یزید نے حدیث بیان کی ہے ، اور وہ میرے نانا ہیں ۔