سنن ترمذي
كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيقِ يَدِ السَّارِقِ باب: چور کا ہاتھ (کاٹنے کے بعد) گردن میں لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1447
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ , قَالَ : سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ , عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ , أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ , فَقُطِعَتْ يَدُهُ , ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ , عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ : هُوَ أَخُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ شَامِيٌّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ` میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا : کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف عمر بن علی مقدمی ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، انہوں نے اسے حجاج بن ارطاۃ سے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´چور کا ہاتھ (کاٹنے کے بعد) گردن میں لٹکانے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا: کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1447]
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا: کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1447]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ ضعیف، اور’’عبدالرحمن بن محیریز‘‘ مجہول ہیں) دیکھئے: الإرواء: 2432)
نوٹ:
(سند میں ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ ضعیف، اور’’عبدالرحمن بن محیریز‘‘ مجہول ہیں) دیکھئے: الإرواء: 2432)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1447 سے ماخوذ ہے۔