سنن ترمذي
كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
باب مَا جَاءَ فِي الإِمَامِ الْعَادِلِ باب: امام عادل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1330
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ ، فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ ، وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ۱؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا ، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے ۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس کو صرف عمران بن قطان کی روایت سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´امام عادل کا بیان۔`
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ۱؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1330]
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ۱؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1330]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: یعنی اللہ کی مدداس کے شامل حال ہوتی ہے۔
وضاحت: 1؎: یعنی اللہ کی مدداس کے شامل حال ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1330 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2312 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ظلم اور رشوت پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی مدد قاضی (فیصلہ کرنے والے) کے ساتھ اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2312]
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی مدد قاضی (فیصلہ کرنے والے) کے ساتھ اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2312]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
جب انسان صحیح کام کی نیت رکھتا ہو تو اسے اللہ کی طرف سے توفیق اور مدد حاصل ہوتی ہے۔
اسی طرح قاضی اگر صحیح فیصلہ کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور اس کے لیے حقیقت تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے، اگر نیک نیتی کے باوجود غلطی بھی ہو جائے تو وہ غلطی معاف ہے۔
(2)
جب قاضی کا ارادہ بے انصافی کرنے کا ہو تو اللہ کی تائید و نصرت حاصل نہیں رہتی۔
اس کے نتیجے میں شیطان کو داؤ لگانے کا موقع مل جاتا ہے اور قاضی غلط فیصلہ کرکے ظلم مرتکب ہو جاتا ہے۔
(3)
ہر اچھا کام اللہ کی توفیق و عنایت سے ہوتا ہے، اس لیے فرائض کی انجام دہی میں اللہ سے مدد مانگتے رہنا چاہیے۔
فوائد ومسائل: (1)
جب انسان صحیح کام کی نیت رکھتا ہو تو اسے اللہ کی طرف سے توفیق اور مدد حاصل ہوتی ہے۔
اسی طرح قاضی اگر صحیح فیصلہ کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور اس کے لیے حقیقت تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے، اگر نیک نیتی کے باوجود غلطی بھی ہو جائے تو وہ غلطی معاف ہے۔
(2)
جب قاضی کا ارادہ بے انصافی کرنے کا ہو تو اللہ کی تائید و نصرت حاصل نہیں رہتی۔
اس کے نتیجے میں شیطان کو داؤ لگانے کا موقع مل جاتا ہے اور قاضی غلط فیصلہ کرکے ظلم مرتکب ہو جاتا ہے۔
(3)
ہر اچھا کام اللہ کی توفیق و عنایت سے ہوتا ہے، اس لیے فرائض کی انجام دہی میں اللہ سے مدد مانگتے رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2312 سے ماخوذ ہے۔