کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: امام عادل کا بیان۔
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ ، وَأَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ، وَأَبْعَدَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ جَائِرٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ ، حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بیٹھنے میں اس کے سب سے قریب عادل حکمراں ہو گا ، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس سے سب سے دور بیٹھنے والا ظالم حکمراں ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1329
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الروض النضير (2 / 356 - 357) ، الضعيفة (1156) ، المشكاة (3704 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1363) // , شیخ زبیر علی زئی: (1329) إسناده ضعيف, عطية العوفى ضعيف (تقدم: 477)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4228) (ضعیف) (سند میں ’’ عطیہ عوفی ‘‘ ضعیف راوی ہیں)»
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ ، فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ ، وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ۱؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا ، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے ۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس کو صرف عمران بن قطان کی روایت سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (2312)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأحکام 2 (2312) ، ( تحفة الأشراف : 5167) (حسن)»