حدیث نمبر: 133
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ ، فَقَالَ : " وَاكِلْهَا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ , وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بِمُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ بَأْسًا ، وَاخْتَلَفُوا فِي فَضْلِ وَضُوئِهَا ، فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ فَضْلَ طَهُورِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” اس کے ساتھ کھاؤ “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عبداللہ بن سعد رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے : یہ لوگ حائضہ کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے ۔ البتہ اس کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے سلسلہ میں ان میں اختلاف ہے ۔ بعض لوگوں نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اس کی طہارت سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یہ حدیث آیت کریمہ: «فاعتزلوا النساء في المحيض» (البقرة: 222) کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 133
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (651)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة 83 (212) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة 130 (651) ، ( تحفة الأشراف : 5326) ، مسند احمد (5/293) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 651 | سنن ابي داود: 212

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان۔`
عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 133]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث آیت کریمہ: ﴿فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ﴾ [ البقرة: 222] کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 133 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 651 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حائضہ عورت کے ساتھ کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 651]
اردو حاشہ:
اس مسئلہ کی وضاحت حدیث: 643 کے تحت گزرچکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 651 سے ماخوذ ہے۔