سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِيِّ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْمَيِّتِ ، وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ . وَفِي الْبَاب : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ، وَيُقَالُ لَهُ : مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو .´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں سے فرمایا : ” تمہارے بھائی نجاشی ۱؎ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو “ ۔ تو ہم کھڑے ہوئے اور صف بندی کی جیسے میت کے لیے کی جاتی ہے “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ۲- یہ حدیث ابوقلابہ نے بھی اپنے چچا ابومہلب سے اور انہوں نے عمران بن حصین سے روایت کی ہے ، ۳- ابومہلب کا نام عبدالرحمٰن بن عمرو ہے ۔ انہیں معاویہ بن عمرو بھی کہا جاتا ہے ، ۴- اس باب میں ابوہریرہ ، جابر بن عبداللہ ، ابوسعید ، حذیفہ بن اسید اور جریر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۲؎: اس سے بعض لوگوں نے نماز جنازہ غائبانہ کے جواز پر استدلال کیا ہے، نماز جنازہ غائبانہ کے سلسلہ میں مناسب یہ ہے کہ اگر میت کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تب پڑھی جائے اور اگر پڑھی جا چکی ہے تو مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا ہو گیا الا یہ کہ کوئی محترم اور صالح شخصیت ہو تو پڑھنا بہتر ہے یہی قول امام احمد بن حنبل شیخ الإسلام ابن تیمیہ اور ابن قیم رحہم اللہ کا ہے عام مسلمانوں کا جنازہ غائبانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور نہ ہی تعامل امت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں سے فرمایا: " تمہارے بھائی نجاشی ۱؎ کا انتقال ہو گیا ہے۔ تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو۔" تو ہم کھڑے ہوئے اور صف بندی کی جیسے میت کے لیے کی جاتی ہے " ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1039]
وضاحت:
1؎:
نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب تھاجیسے روم کے بادشاہ کا لقب قیصراورایران کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا، نجاشی کا وصفی نام اصحمہ بن ابجرتھا اسی بادشاہ کے دورمیں مسلمانوں کی مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت ہوئی تھی، نبی اکرمﷺ نے 6ھ کے آخر یا محرم 7ھ میں نجاشی کو عمروبن امیہ ضمری کے ذریعہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی توانہوں نے آپ کے مکتوب گرامی کا بوسہ لیا، اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اوراپنے تخت شاہی سے نیچے اترآیا اورجعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا انہوں نے نبی اکرمﷺکو یہ ساری تفصیل لکھ کر بھیج دی غزوئہ تبوک 9ھ کے بعد ماہ رجب میں ان کی وفات ہوئی۔
2؎:
اس سے بعض لوگوں نے صلاۃِجنازہ غائبانہ کے جواز پراستدلال کیا ہے، صلاۃِ جنازہ غائبانہ کے سلسلہ میں مناسب یہ ہے کہ اگرمیت کی صلاۃ جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تب پڑھی جائے اوراگرپڑھی جاچکی ہے تو مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ اداہوگیا الا یہ کہ کوئی محترم اورصالح شخصیت ہو تو پڑھنابہترہے یہی قول امام احمدبن حنبل شیخ الإسلام ابن تیمیہ اور ابن قیم رحہم اللہ کا ہے عام مسلمانوں کا جنازہ غائبانہ نبی اکرمﷺ سے ثابت نہیں ہے اورنہ ہی تعامل امت ہے۔
شاہ حبشہ کا لقب نجاشی ہے۔
اور حبشہ کا ہر بادشاہ نجاشی کہلاتا تھا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مسلمان ہو کر مرنے والا نجاشی اصحمہ تھا جس کی وفات رجب 9ہجری میں ہوئی۔
2۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی ایسا انسان فوت ہوا جس کا امت مسلمہ کے ہاں مقام ومرتبہ اس کی خوبیوں اور کمالات کی بنا پر تسلیم شدہ ہو کہ سب لوگ اس کے احسان مند ہوں تو اس کا غائبانہ جنازہ پڑھا جائے گا۔
حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس معتدل مؤقف کو اختیار کیا ہے۔
ائمہ اربعہ کا اس بارے میں اختلاف ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک غائبانہ جنازہ جائز ہے کیونکہ بقول امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ صلاۃ جنازہ دعا ہے اور دعا موجود اورغائب دونوں کے لیے ہو سکتی ہے۔
حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
آپﷺ کی زندگی میں آپ کے بہت سے ساتھی غائبانہ طور پر فوت ہوئے ہیں۔
لیکن آپﷺ نے کسی کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
خلاصہ یہی ہے کہ کسی عظیم شخصیت کی خدمات کے اعتراف کے طور پر نماز جنازہ غائبانہ پڑھنا صحیح ہے اور ہر نیک آدمی کے لیے درست نہیں ہے۔
3۔
ائمہ اربعہ کا جنازہ کی چار تکبیرات ہونے پر اتفاق ہے۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تمہارا بھائی مر گیا ہے، اٹھو اس کی نماز جنازہ پڑھو۔" [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1948]
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: " تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو "، تو ہم کھڑے ہوئے (اور) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے، اور ہم نے ان کی نماز (جنازہ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1977]