حدیث نمبر: 99
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ رَآهُ يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ : سَجَدْتَ فِي سُورَةٍ مَا رَأَيْتُ النَّاسَ يَسْجُدُونَ فِيهَا ، قَالَ : " إِنَّنِي لَوْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا لَمْ أَسْجُدْ فِيهَا " .
نوید مجید طیب

ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ کی تلاوت پر سجدہ تلاوت کرتے دیکھا، ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اس سورت پر میں نے لوگوں کو سجدہ تلاوت کرتے نہیں دیکھا آپ کیوں کرتے ہیں؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے نہ دیکھا ہوتا تو نہ کرتا۔“

وضاحت:
➊ سورہ انشقاق میں سجدہ تلاوت مسنون ہے۔
➋ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ کمال درجہ کے متبع سنت تھے۔
➌ اگر کوئی عالم معمول سے ہٹ کر عمل کرے تو اس سے دلیل کا مطالبہ کرنا درست ہے۔
➍ کسی بھی عمل کے مشروع ہونے کے لیے کتاب و سنت سے دلیل کا ہونا ضروری ہے۔
➎ سجدہ تلاوت سے متعلقہ مزید مسائل کے لیے دیکھئے شرح حدیث نمبر 94۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 99
تخریج حدیث صحیح بخاری، بسجود القرآن باب سجدة اذا السماء انشقت، رقم : 1074 ، صحیح مسلم ، المساجد ومواضع الصلاة، باب سجود التلاوة ، رقم : 578۔