حدیث نمبر: 88
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ ابْنَةَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ ، إِنَّهَا لآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ .
نوید مجید طیب

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ماں ام فضل بنت حارث نے ان کو ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾ پڑھتے سنا تو کہنے لگیں : اے میرے بیٹے! تو نے اس سورۃ کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلا دیا کہ بے شک یہ آخری سورۃ ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز مغرب میں تلاوت کرتے سنی۔

وضاحت:
➊ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے والہانہ لگاؤ تھا، مرد و زن نے امور شرع کو محفوظ کرنے میں یکساں محنت کی۔
➋ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے والے بچوں کی بڑوں کو حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
➌ ام فضل رضی اللہ عنہا ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ ماجدہ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 88
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب القرأة في المغرب، رقم : 763 ، مسلم، الصلاة، باب القرأة في الصبح ، رقم : 462۔