السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 80
وَأَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں سواری پر (نفلی) نماز پڑھتے تھے سواری کا منہ جدھر بھی ہو۔ عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کرتے تھے۔
وضاحت:
➊ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سنت پر عمل کرنے میں بہت حریص تھے، حتی کہ سفر حج میں اُن کی کوشش ہوتی کہ اسی گھاٹی، وادی، اور راستے سے گزریں جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرتے تھے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے نے ایک دفعہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی تو اس وجہ سے امام مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: «فما كلمه عبد الله حتى مات» پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وفات تک اپنے بیٹے سے بات چیت نہیں کی تھی۔ [مسند احمد: 4933]