السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 78
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ قَالَ سَعِيدٌ : فَلَمَّا خَشِيتُ الْفَجْرَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ " .نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ جا رہے تھے، جب صبح قریب ہونے لگی تو میں سواری سے اترا اور نماز وتر ادا کی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسوہ نہیں؟ میں نے کہا کیوں نہیں! اللہ کی قسم، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اونٹ پر ہی وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
وضاحت:
➊ عام نفلی نمازوں کی طرح وتر بھی سواری پر پڑھنا درست ہے۔
➋ نماز وتر فرض یا واجب نہیں ہے۔
➌ بعض لوگ جو وتر کو فرض یا واجب سمجھتے ہیں یہ حدیث ان کے خلاف دلیل ہے۔
➍ نماز وتر کا وقت طلوع فجر سے پہلے تک ہے۔
➋ نماز وتر فرض یا واجب نہیں ہے۔
➌ بعض لوگ جو وتر کو فرض یا واجب سمجھتے ہیں یہ حدیث ان کے خلاف دلیل ہے۔
➍ نماز وتر کا وقت طلوع فجر سے پہلے تک ہے۔